جو گل بھی ہے چمن میں وہ پتّھر دکھائی دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 115
جانے یہ کس کے سحر کا منظر دکھائی دے
جو گل بھی ہے چمن میں وہ پتّھر دکھائی دے
کیسی یہ لو چلی کہ سرِ دستِ آرزو
اٹھتی ہے جو بھی لہر وہ اژدر دکھائی دے
کھودے اُسی کے پیروں تلے کی زمین وہ
جس کم نگاہ کو کوئی ہم سر دکھائی دے
ایسا ہے کون بت نہ تراشے جو حرص کے
دیکھا ہے جس کسی کو وہ آذر دکھائی دے
محبوس تیتروں پہ جو بلّی کو ہے نصیب
وہ جبرِ ناروا اُسے کیونکر دکھائی دے
ماجدؔ جسے بھلائیں گل و مہ کو دیکھ کر
چہرہ وہ صبح و شام برابر دکھائی دے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s