جو کیا ہے صاحبو! اچّھا کیا اچّھا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 72
سامنے غیروں کے اپنے یار کو رُسوا کیا
جو کیا ہے صاحبو! اچّھا کیا اچّھا کیا
رفعتوں کی سمت تھیں اونچی اڑانیں آپ کی
اور میں بے چارگی سے آپ کو دیکھا کیا
آسماں ٹوٹا نہ گر، پھٹ جائے گی خود ہی زمیں
آنگنوں کے حبس نے یہ راز ہے افشا کیا
کل تلک کھُل جائے گا یہ بھید سارے شہر پر
ڈھانپنے کو عیب اپنے تم نے بھی کیا کیا کیا
گو سرِ ساحل تھا لیکن سیل ہی ایسا تھا کچھ
گال اپنے دیر تک ماجدؔ بھی سہلایا کیا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s