جن کی پرسش میں بھی دل آزاری ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 151
اُن لوگوں سے اب کے سانجھ ہماری ہے
جن کی پرسش میں بھی دل آزاری ہے
جو بولے در کھولے خود پر پھندوں کا
کچھ کہنے میں ایک یہی لاچاری ہے
اپنا اک اک سانس بھنور ہے دریا کا
اپنا اک اک پل صدیوں پر بھاری ہے
اوّل اوّل شور دھماکے پر تھا بہت
دشت میں اُس کے بعد خموشی طاری ہے
طوفاں سے ٹکرانا بِن اندازے کے
یہ تو اپنے آپ سے بھی غدّاری ہے
ہر مشکل کے آگے ہو فرہاد تمہی
ماجِدؔ صدّیقی کیا بات تمہاری ہے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s