جان لیجے کہ وہ جہاں سے گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 149
اُٹھ کے جو اُس کے آستاں سے گیا
جان لیجے کہ وہ جہاں سے گیا
چھیڑتے کیوں ہو تذکرے اس کے
جو مرے وہم سے گماں سے گیا
یوں مری داستاں سے نکلا وہ
باب جیسے ہو درمیاں سے گیا
اب یہ آنکھیں اُسے نہ دیکھیں گی
حسن جو ابکے گلستاں سے گیا
آنے پایا نہ اختیار میں وہ
تیر اک بار جو کماں سے گیا
کیا وہ من موہنا خزانہ تھا
شخص جو ہند میں سواں سے گیا
بن کے بندہ غرض کا ماجدؔ بھی
دیکھ لو بزمِ دوستاں سے گیا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s