بے برگ شجر دیکھوں بکھرے ہوئے پر دیکھوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
منظر سے ذرا ہٹ کر پل بھر جو ادھر دیکھوں
بے برگ شجر دیکھوں بکھرے ہوئے پر دیکھوں
جلتے ہیں، اگر ان کے ٹخنے بھی کوئی چھولے
قامت میں بہت چھوٹے سب اہلِ نظر دیکھوں
لگتا ہے پرندوں سا بکھرا ہوا رزق اپنا
بیٹھوں بھی تو پیروں کو مصروفِ سفر دیکھوں
کس ابر سے نیساں کے آنکھیں ہیں نم آلودہ
کیا کیا ہیں صدف جن میں بے نام گہر دیکھوں
آتا ہے نظر ماجدؔ! کیا کچھ نہ جبینوں پر
ایسے میں بھلا کس کے مَیں قلب و جگر دیکھوں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s