بڑا ہی دور سِر اَوج طور اُترا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 75
زمیں پہ جب بھی کبھی اُس کا نور اُترا ہے
بڑا ہی دور سِر اَوج طور اُترا ہے
جو پھوٹتا ہے کبھی تلخیوں کی شدّت سے
لہو کی تہ میں کچھ ایسا سرور اُترا ہے
مرے سکوں کا پیمبر اسی میں ہو شاید
ابھی ابھی لبِ دریا جو پُور اُترا ہے
رہا ہے ایک سا موسم نہ بادوباراں کا
چڑھا ہے جو بھی وہ دریا ضرور اُترا ہے
نگاہِ حرص لگی ہے اُسی پرندے پر
تلاشِ رزق میں ہو کر جو چُور اُترا ہے
سنی نہ ہم نے کبھی ایسی شاعری واعظ
سخن میں آپ کے کیا عکسِ حور اُترا ہے
تجھے بھی اہلِ ہوس پر کچھ اعتماد سا ہے
ترے بھی ذہن میں ماجدؔ فتور اُترا ہے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s