بول ہوں جیسے ہونٹوں پر بیواؤں کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 92
دل سے یُوں اٹُھتے ہیں حرف دعاؤں کے
بول ہوں جیسے ہونٹوں پر بیواؤں کے
بُعد نجانے تا بہ نشیمن کتنا ہے
تیور ہیں کچھ اور ہی تُند ہواؤں کے
اب کے آس کا عالم ہی کچھ ایسا ہے
ہاتھ میں سکے جیسے آخری داؤں کے
پل پل چھینیں چہروں سے نم راحت کی
حلق میں اٹکے کنکر خشک صداؤں کے
پیشانی میں عجز کی میخیں اُتری ہیں
اور زباں کی نوک پہ وِرد خداؤں کے
رفتہ رفتہ پیار کا ابجد بھول گئے
شہر میں جو جو لوگ بھی آئے گاؤں کے
ماجدؔ نقش برآب سمجھتے تھے جس کو
نقش کھُدے ہیں دل پر اُس کے ناؤں کے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s