باکرہ ماں کی طرح پیٹ چھپائے رکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 89
دھیان اوروں کا حقیقت سے ہٹائے رکھنا
باکرہ ماں کی طرح پیٹ چھپائے رکھنا
کیا خبر آ ہی نہ جائے وہ سرِ صبح کہیں
دل میں موہوم سی امید جگائے رکھنا
درس منبر سے بھی رہ سہہ کے ملا اِتنا ہی
جو بھی خواہش ہو اُسے کل پہ اُٹھائے رکھنا
دل سے بالک کے لئے آ ہی گیا ہے ہم کو
ہڈیاں آس کی چُولھے پہ چڑھائے رکھنا
جو نہ کہنا ہو سرِ بزم وہ کہہ دیں ماجدؔ
کچھ بھرم ہم کو محّبت کا نہ آئے رکھنا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s