اُبھر رہے ہیں شرارے سے کیوں نگاہوں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
کوئی تو آگ ہے اُتری جواب کے آہوں میں
اُبھر رہے ہیں شرارے سے کیوں نگاہوں میں
پہنچ گئے ہیں یہ کس مہرباں کی سازش سے
سکوں کی آس لیے، جبر کی پناہوں میں
اُفق سے دل کی تمناؤں کے جو اُبھرا تھا
پلٹ کے چاند وہ آیا نہ اپنی باہوں میں
بچے گا دام سے کیا اُس کے کوئی زندانی
ستم نے کانچ بچھائے ہوئے راہوں میں
ہمارا جرم ہوئی موسموں سے نم طلبی
شمار بات نہ کیا کیا ہوئی گناہوں میں
وہ مرغ باز ہُوا نام پر قفس جن کے
ہمیں بھی جانیے اُنہی کے خیر خواہوں میں
ہے جب سے جبر کا پہرہ سروں پہ اے ماجدؔ
نہ نفرتوں میں مزہ ہے نہ لطف چاہوں میں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s