آنچ سی اِک مسلسل ہواؤں میں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 121
جان جیسے گھری پھر چتاؤں میں ہے
آنچ سی اِک مسلسل ہواؤں میں ہے
پھر سے غارت ہُوا ہے سکوں دشت کا
کھلبلی پھر نئی فاختاؤں میں ہے
آگ سی کیا یہ رگ رگ میں اُتری لگے
دھوپ کا سا گماں کیوں یہ چھاؤں میں ہے
میرے جینے کے اسباب سب شہر میں
میری تسکیں کا سامان گاؤں میں ہے
آج تک ہم نے بنتی تو دیکھی نہیں
بات ماجدؔ چھپی جو اناؤں میں ہے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s