ہمہ آہوانِ صحرا

مُجھ پر بنے گی، گر نہ بنی اُس کی جان پر

بیٹھا ہوں میں بھی تاک لگائے مچان پر

یہ شعر پڑھنے سے اگر آپ کو اس کے خالق پر ماہر شکاری ہونے کا گمان گزرے تو عرض ہے کہ وہ ماہر شکاری ہمیں ہیں لیکن وہ شکاری جو پریکٹیکل سے زیادہ تھیوری کے ماہر ہوتے ہیں۔

ہمارا بچپن اس وادی میں گزرا تھا جس کے چاروں اور پہاڑیوں کے نہایت متوازن سلسلے ہیں اور ان سلسلوں میں سے دو سلسلے ایسے بھی ہیں جو آگیکسی قدر طویل نشیبی جنگلات سے ملے ہوئے ہیں جن میں لومڑوں اور گیڈروں سے لے کر چیتوں اور شیروں تک تقریباً سبھی جانور گاہ گاہ پائے جاتے رہے اور ہم نے بچپن کے ابتدائی دنوں میں دو ایک شکار شدہ چیتے اپنی آنکھوں سے بھی دیکھے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ عطائی حکیموں کی طرح ہممحض اسی مشاہدے کی بناء پر ماہر شکاری کے مقام تک پہنچ گئے، تھیوری میں ہمارے نمبر اس لئے زیادہ قرار پا سکتے ہیں کہ عارضۂ احتجاجِ اعصاب کے دوران ہمیں جناب رئیس امروہوی جیسے ہی ایکبزرگ نے شکاریات کے عنوان کے تحت چھپنے والی کہانیوں کے بالاعتکاف مطالعے کا مشورہ ایک بار دیا تھا، مؤقف ان کا یہ تھا کہ اس سے اندر کے بہ سارے خوف ہوا ہو جاتے ہیں اور حسنِ اتفاق دیکھئے کہ ہم اس بزرگ کے چکر میں کچھ اسطرح آئے کہ اس قبیل کے لٹریچر کی مقدار اس لٹریچر سے بھی کہیں متجاواز ہو گئی جو ہم نے ایم اے کی دگری کے لئے سولہ سال تک سہیڑے رکھا، اس مطاالعے سیہمارا عارضہ تو گیا یا نہیں لیکن اتنا ضرور ہوا

کہ اکثر شب تنہائی میں ہم عالم خواب میں بھی بلبلا اٹھتے رہے اور یقینا نہیں تو غالباً مبارک احمد سے خدا جانے کتنا عرصہ پہلے بڑی منضبط نثری نظمیں فی البدیہہ تخلیق کرتے رہے۔

لیکن قاری محترم ہمیں اس میدان میں اتنا گیا گزرا بھی نہ سمجھئے اس لئے کہ چند ایک شکار تو ہم نے بقائمی ہوش و حواس بدستِ خود بھی کئے جن میں سے کچھ کا ذکر ہم…… ضروری بھی سمجھتے ہیں۔

بچپن کے دنوں میں ہمیں اپنے ماحول کے قریبی جنگلوں میں جانے کا افاق اکثر ہو جاتا تھا جس کے ناتے ہمارے سمیت گاؤں کے اکثر لڑکے بالے غلیل وغیرہ کے شکار کا شوق پورا کر لیتے ہمیں یاد پڑتا ہے کہ ہم نے بھی ایک بار یہ تجربہ جب خود کیا تو

مارن والے موئے محمد قدرت رب دی ہوئی

جیسا نقشہ آنکھوں میں لہرا گیا وہ دن اور پھر سینکڑوں دن یہی معمولی سا واقعہ ہمیں اس شغل سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تائب کر گیا۔

اسی دوران ہم نے اپنا یہ جماعتی شوق پورا کرنے کی ایک اور راہ اپنائی اور وہ تھی کُڑکی سے فاختا میں پھانسنے کا بالکل عاشقانہ طرز کا اندازِ شکار کڑکی کسی جانور کے سینگ، لکڑی کے ایک دستیاور ذبیحہ بزومیش کی انتڑیوں کو خشک کرنے سے تیار کی ہوئی ڈوری سے بنائی جاتی تھی، جسے ہم نیگراں یاب ہونے کے باوجود خریدا اور ایک دو ساتھیوں کے ہمارہ مسلسل کئی کئی اتوار اس کے استعمال میں غارت کر دئیے اور استعمال اس کا یہ ہوتا تھا کہ زمین میں ایک چھوٹا سا گڑھا بنا کر کڑکی میں ایک آدھ دانہ ارا دیا جاتا۔ وہ کڑکی خاک میں دفنا دی جاتی اور اُوپر

سے زمین ہموار کرکے گندم یا باجرے کے کچھ دربان دانے بکھیر دئیے جاتے اور خود کسی جھباڑی کی اوٹ میں بیٹھ کر اس لمحے کا سخت بے چینی سے انتظار کیا جاتا جس لمحے کوئی بے دوش تلاشِ معاش کا اسیر ہو کر اپنی گردن کڑکی کے حوالے کر چکا ہوتا۔

ہم نے اس شغل عاشقانہ میں دو ایک بارکامیابی بھی حاصل کی لیکن اس سے دست برداری کا واقعہ بھی بعینہہٖ غلیل سے دست برداری جیسا ہی جانئے اس لئے کہ ایک دن ہم نے یہ شوق تن تنہا پورا کرنا چاہا اور کڑکی لگانے کے مرحلے سے ابھی فارغ نہیں ہوئے تھے کہ اس کم بخت نے الٹی ہماری ہی انگشت شہادت نگل لی۔ جسے اپنے بائیں بازو سے آزاد کرانا ہمیں بس سے باہر نظر آیا تو خدا جانے کرب کی کس شدت کے ساتھ ہم نے میل بھر بلکہ اصطلاح جدید میں کلومیٹر بھر کا فاصلہ آناً فاناً طے کیا، گھر پہنچے اور اپنے بزرگوں کے دستِ تعاون سے اس کم بخت سے اپنا پیچھا چھڑایا اور یوں جانئے کہ اس میدان میں ہم نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنا لنگوٹہ کھول دیا۔

دوران ملازمت سٹیشن سٹیشن نمبر ایک پر ہوتے ہوئے ایک بار پھر

ہر چند سُبک دست ہوئے بت شکنی میں

ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہے سنگ گراں اور

شکار کھیلنے یاد رکھنے کا موقع در آیا تو کرشمہ ہائے قدرت پر ہمارا اعتقاد اور بھی پختہ ہو گیا یوں کہ ان دنوں بسلسلہ جستجو ئے ہم سخناں ہماری ملاقات اپنے ہی محکمے کے ایک ایسے فرد سے ہوئی جس سے متعلق یہ کہنا شاید زیادہ صحیح ہو کہ

خاک کے پردے سے نکلے لوگ دکھلائیں تو ہم

میر سا لیکن ملے ماجدؔ کوئی ہمراز بھی

اور وہ صاحب تھے ہمارے بے نیازشاعر جناب عابد جعفری جن کی پنجابی شاعری کا آغاز ہماری آنکھوں کے سامنے ہوا اور اختتام یوں کہ سٹیشن نمبر چار سے رُخصتی کے بعد ہمیں ان کے پاس جا کر ان کا سارا کلام نہ صرف یک جا بلکہ اپنے پاس محفوظ کرنا پڑا جو آج تک گئے ’’گواچے سُکھ‘‘ کے نام سے ہمارے پاس ہے اور جس کے ضیاع کا کھٹکا ہمیں اس لئے تھا کہ موصوف تادم تحریر

ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں

ورنہ کیا بات کر نہیں آتی

کی مکمل تصویر بنے رہتے ہیں، انہی صاحب کے ہمراہ ایک بار ہمارے یہاں ایک اور صاحب تشریف لائے تو ہم بڑی اضطراری کیفیت میں بازار کی جانب لپکے اس لئے کہ غروبِ آفتاب کا وقت تھا اور ترکاری وغیرہ کا انتظام درپئے آزاد تھا لیکن ہم نے اپنا روایتی تھیلہ ابھی اٹھایا ہی تھا کہہمارے دوست کے دوست اور ہمارے نووارد مہمان نے ہمیں ہاتھ سے پکا اور اپنی نشست پر بٹھا دیا۔ ہم نے زیرِ لب اظہار مدعا کرنا چاہا تو انہوں نے زیرِ لب ہمیں اپنے تھیلے کی جانب متوجہ کیا اور کہا کہ اسے کھولئے، ہم نے وہ پٹارا کھولا، تو کچھ یوں کھو گئے جیسے ہمارے بچپن کی ساری ناکامیاں ہماری آنکھوں میں لہرا گئی تھیں، موصوف کے پٹاریمیں پانچ مختلف پرندے زبان حال سے ہماری ہانڈی کی راہ پانے کو بے قرار نظر آئے۔ اور جب ہم

نے اس من و سلویٰ کو اس پٹارے سے نکال باہر کیا تو ہمیں ساتھ ہی وہ غلیل بھی نظر آئی جس سے موصوف نے یہ پھل شاخِ ہوا سے ہمارے لئے اتارا تھا، انتہائی متعجبانہ استفسار پر پتہ یہ چلا کہ موصوف اس میدان میں اپنا ثانی نہیں رکھتے اوریہ کہ اگر ہم ان کے گاؤں جائیں تو وہ اس فن کا مظاہرہہماری آنکھوں کے سامنے کرنے میں بھی عار محسوس نہیں کریں گے۔

اُن کی یہ دعوت کچھ تو شوق شکار کے سلسلے میں ہماری گزشتہ محرومیوں کے باعث اور کچھ ان کی فنی مہارت کے طفیل ہمیں کچھ زیادہ ہی بھلی لگی چنانچہ کچھ ہی مدت بعد ہم ایک دن ان کے یہاں اچانک ٹپک پڑے۔ ان کا گاؤں کھلے میدان میں واقع تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ گنجان کھدروں کی آغوش میں بھی پڑتا تھا، لہذا وہاں پہنچنے کے چند ہی گھنٹوں بعد ہم ان کھدروں کے غیرآباد حصوں کے عین درمیان تھے۔ موصوف نے اپنی غلیل سے یکے بعد دیگرے نوفائر کئے اور دسواں انہیں اس لئے نہ کرنے دیا گیا ہ شکاری کے تھیلے میں اب کسی کنجشک فرومایہ کے جسد ناتواں کے سمٹنے کی گنجائش بھی نہ تھی گویا اس ستم ظریف نے شکار سے ہماری رہی سہی دلچسپی بھی تمام کر ڈالی۔

نہ آج لُطف کر اتنا کہ کل گزر نہ سکے

وہ رات جو کہ تیرے گیسوؤں کی رات نہیں

اوراب کہ ہم اسٹیشن نمبر چار پر پھر ایسے ہی ارمان انگیز اور ولولہ خیز گردو نواح میں محصور تھے اور ہاسٹل میں رہنے کے ناتے خالصتاً چھڑوں جیسی زندگی گزار رہے تھے اور بہت سارے مجروانہ مشاغل کے علاوہ جن میں بعض احباب کے آپس میں گزشتہ و آئندہ

ارمانوں کی جزئیات کا …… ایکسچینج بھی تھا، میلوں تک کے علاقے کی سیر ہمارا روزمرہ کا معمول تھی۔ چنانچہ ایسے ہی ایک موقع پر

نکل ہوا میں کہ عالم کچھ ان دنوں اس کا

مثالِ گفتہ غالب شراب جیسا ہے

ہمارے احباب میں سے وہ صاحب جن کی فکری معیت کی کشش ہمیں ہمیں کشاں کشاں وہاں لے گئی تھی اور جو کچھ عرصہ بعد کسی کشش سے لیس ہو کر ایک اور مقام پر کھسک گئے تھے، ایک دن اچانک شکار کھیلنے کا مژدہ ہمیں سنانے لگے جسے سبھی حضرات نے بکمال التفات سنا اور شکار کے دن اور مقام کا تعین بھی کھڑے کھڑے وہیں ہو گیا کہ موصوف تخلیق شعر کے علاوہ ایک عدد لائسنسی بندوق کے بھی مالک تھے اس لئے نہیں کہ تخلیق شعر کے سلسلے میں ان آلات حرب کی بھی ضرورت ہوتی ہے بلکہ اس لئے کہ عسکری علاقے سے متعلق ہوتے ہوئے اس طرح کیمتاع گراں کا حصول وہاں کے امتیازی سماجی آداب میں شامل سمجھا جاتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ ہمیں یہ سعادت کبھی نصیب نہ ہو سکی۔

شکار کادن آیاتو ہم بقول یکے از احباب اپنی اُمت سمی روبکوہ و دمن ہوئے تو جاتے ہوئے بارورچی کو صریحی احکامات دیتے گئے؎

آج بازار سے کچھ بھی نہیں لانا ہو گا

اور جب شکارگاہ کی حدود میں پہنچے تو ہمیں اپنے عزائم اور بھی بلند ہوتے نظر آئے اس لئے کہ پرندوں چہچہوں سے پس و پیش کا ماحول غالبؔ کی تحریک شعر کی یاد دلا رہا

تھا۔؎

ہم چمن میں کیا گئے گویا دبستان کھل گیا

بلکہ اگر مبالغۂ نہ سمجھا جائے تو وہ بات بھی اس سمے ہمارے حق میں کچھ زیادہ غیرصحیح نہ تھی، کہ

ہمہ آہوان صحرا سر خود سنہادہ برکف

بامید آنکہ روزے بشکار خواہی آمد

لیکن فے الحال کچھ تو اپنے عزائم کی بلندی کے باعث اور کچھ اپنی اُمت کی سنگ باری کے طفیل جنہیں غالب نے یہ کہہ کر ہمیشہ کے لئے سند یافتہ کر دیا ہے۔

سنگ اُٹھایا تھا کہ سرد آیا

ہمارے شکار کے تھیلے بیریوں کے کھٹ میٹھے پھلوں سے لبا لب بھرے ہُوئے تھے۔ہم نے اس مولائی مخلوق یعنی پرندوں پر ہا تھ اٹھانا خلافِ شان سمجھا اور اور زیادہ گھنے جنگلوں میں اُتر گئے اس اُمید پر کہ ذرا اس آہوانِ صحرا کو بھی دیکھاجائے جو سر بکف ہمارے منتظر ہیں اور یہ تحریص ہمیں اس لئے ہوئی عقابی بلکہ’’شتابی‘‘نگاہوں نے ایسے ہی ایک غول کا پتہ بڑی دوْر سے لگایا لیاتھاچنانچہ اب صورت حال عین کشاکش میں ہمہ تن محوہم بالائی نشیبی جگہوں سے یوں لڑھکتے جا رہے تھے جیسے کسی حلوائی کا شیرہ قفس دیگ سے رہائی کی راہ پاتا ہے۔ اسی مجنونانہ دوڑ میں ہمارے شہ شکاری جو ہمارے آگے آگے جا رہے تھے اور تفنگ بدست بھی تھے ہمیں ایک پتھر سے لڑھکتے کیا دکھائی دیئیے کہ ہم خود جیسے کسی توپ کے دہانے

میں جا پڑے جنگل کی خاموشی اور پتھروں کی پاک طینتی کے باعث بندوق کے منہ سے نکلے ہوئے کلمہ شر کے پھیلاؤنے جیسے ہمیں دہلا کر رکھ دیا۔

ہمیں اس لئے کہ موصوفہ کا رُخ ہماری جانب تھا اور وہ عفیقہ جو اس کے بطن سے ظہور پذیر ہوئی تھی ہماری کن پٹی کے پاس سے یوں گزر گئی تھی جیسے بعض حالات میں رقیب روسیاہ کا مکا جبڑے کے پاس سے ہو کر گزر جاتا ہے اور وہ ہاتھ جس کی جنبش سے یہ سارا کچھ ہوا تھا اس لئے تھر تھرا رہا تھا کہ بندوق کی لبلبی ارادۃً نہیں بلکہ کسی اتفاقیہ جنبش ہی سے مائل بہ سخن ہو گئی تھی۔

اس ناگہانی حادثے سے بچ نکلنے پر ہماری اپنی سیٹی تو جیسے گم ہی ہو گئی لیکن وہ لوگ بھی جو ہمارے اس سفر شوق میں برابر کے شریک تھے کچھ ایسے پرسکون نہ رہ سکے تاہم جب اجتماعی اعتاب ریسہمیں خیال اپنے باورچی کو منہ دکھانے کا آیا تو مجبوراً ہر کسی کو اپنے جذبۂ حمیت کو للکارنا پڑا۔ اگرچہ اس مرحلے پر ہمارے عزائم کسی قدر پست ضرور نکلے اس لئے کہ اب ہماری توجہ کا مرکز آہوان صحرا نہ تھے بلکہ وہی مولائی مخلوق تھی جن پر ہاتھ اٹھانا ہم نے ابتداً ایک بزدلانہ حرکت تصور کیا تھا۔

چاہتے ہو خوبروؤں کو اسد

آپ کی صورت تو دیکھا چاہئے

لیکن معیارِ فکر کی اس تبدیلی کی انتہا دیکھئے کہ جب ہم اپنی جائے قیام پرپہنچے تو ایک عدد کبوتر اور ڈیڑھ عدد تلیروں کے سوا ہمارے تھیلوں میں اگر کچھ تھا تو اﷲ کے نام کے سوا

بیر ہی بیر تھے چنانچہ شنام کے ملگچے اندھیروں میں اپنے باورچی کا سامنا ہوا تو نہ صرف یہ کہ اس مردِ طویل قامت کی نگیہ میں ہمیں زچ ہوناپڑا بلکہ یہی رسوائی ہمیں اپنے اپنے معدوں کے سامنے بھی اٹھانا پڑی۔

ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s