ہمارا تیسرا ٹھکانہ اور ہم

اپنے دو ٹھکانوں کا ذکر تو اب تک ہو رہا ہے لیکن زندگی کا وہ باب جسے سماجی تعلقات کا نام دیا جاتا ہے۔ ابھی ہم نے بطور کفایت شعاری الگ باندھ رکھا ہے۔ سکول اور گھر کے علاوہ ہمارا کچھ وقت گھومنے پھرنے میں بھی لگتا، جس میں ہم فطری مناظر کے ساتھ ساتھ کچھ غیرفطری مناظر سے بھی دوچار رہتے ہم نے لفظ غیرفطری قانون کی اصطلاح سے کوسوں دور مفہوم میں برتا ہے۔ ہماری مراد ان تہذیبی قواعد سے ہے جسے اپنا کر انسان فطرت سے بہت دور چلا جاتا ہے۔ جس گاؤں یا قصبے میں ہم مقیم تھے اس کا بیشتر حصہ کسی عاشق زار کے دل ناداں کی طرح خاصا مجروح تھا کہ اس میں روز دیہاڑے مرتب ہوتی۔ تاریخ کے کچھ تازہ نشان کھنڈرات کی صورت میں نئے نئے مرتب ہوئے تھے۔ لیکن اسے اتفاق جانئے یا ایہل دیہہ کی دوراندیشی کوان بھلے لوگوں نے بازار کی کسی ایک اینٹ تک کو بھی چھوا نہ تھا۔ جس کے باعث علاقیبھر کا یہ مرکزی بازار تقسیم ملک کے بعد بھی اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ آباد تھا۔ چنانچہ گھرکی چاردیواری اور کمروں کی بادپیمائی کے بعد ہمارا تیسرا ٹھکانہ اسی بازار کی کچھ دکانیں تیں لیکن نہ اس مفہوم میں کہ خدانخواستہ ہم ملازمت کے علاوہ اپنے فارغ اوقات میں کوئی اضافی کاروبار کرتے تھے اگر ایسا ہوتا تو ہماری دانشوری کا غبارہ کب کا پھٹ چکاہوتا اور شاعری کی جگہ لامحالہ طور پر ان سکّوں نے لے رکھی ہوتی جن کی خاطر اپنے عزیز ہموطنوں کے خون کاجلترنگ بجا کرتا ہے۔ کہ ہمارے ہاں تجارت ہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر کوئی شخص اپنے ہموطنوں سے ان کی ناعاقبت اندیشی کا انتقام راشد مرحوم کے انتقام سے بھی بڑھ چڑھ کر لے سکتا ہے جس کا ذکر انہو ں نے اہل فرنگ کے حوالے سے اپنی کسی نظم میں کیا ہے اور یہ منتظم طبقہ بکارِ خویش اس قدر ہوشیار ہے کہ آج بھی ہمارے بھائی انور مسعودانہیں کچھ اسی طرح خراجِ عقیدت پیش کرتے نظر آتے ہیں۔

یہی اندازِ تجارت ہے توکل کا تاجر

برف کے باٹ لئے دھوپ میں بیٹھا ہو گا

لفظ بازار اور استاد میں جس قدر بُعد ہے ان دنوں اتنا بلکہ اس سے سوا قرب ہمیں بازار سے حاصل ہوتا تھا…… کہ اگر اس ماحول میں کوئی اکاّ دکّا کا ہم مزاجآدمی میسر آسکتا تھا تو اس کا قیام اسی نواح میں تھا چشم تصّورسے دیکھا جائے تو متعدد چہرے ایسے نظر آتے ہیں جن سے بیک وقت ہماری موافقت، یگانگت او رمعاونت وغیرہ سبھی کچھ رہا، موافقت کیذیل میں ایسے افراد شامل تھے جومحض دوکان دار تھے لیکن ذرا اہل مروت کہ محکمہ تعلیم ان دنوں براہ راست ڈسٹرکٹ بورڈوں کے زیرنگیں ہوا کرتا تھا اور اساتذہ کو تنخواہیں رزاقی کے نہیں بلکہ نجیلی کے جذبے کے تحت دی جایا کرتی ہیں یہاں تک کہ تین تین مہینے ڈاکیے کا منہ دیکھتے گزر جاتیاور جب چوتھے مہینے یہ خبر عام ہوتی کہ بورڈ نے اپنے زیراختیار شاہراہوں پر اگی کچھ ٹاہلیاں فروخت کر لی ہیں تواساتذہ برادری کو جیسے عید کا چاند نظر آجاتا ایسے حالات میں وہ دوکاندار جو اساتذہ سے مروت سے پیش آتے تھے ظاہرہے کہ بڑے دل گردے والے تھے چاہے وہ اپنے بال بچے کے نان نفقے کی فکر میں اساتذہ کے ہاتھ فروخت ہونے والی ہر شے کانرخ ذرا سوچ سمجھ کر لگاتے تاہم یہی وہموافق نسخہ تھا جو اساتذہ کو راس تھا اور ہم خود اس موافق نسخے کے ہمہ وقتی اسیر تھے۔

ہماری یگانگت ان دوکانداروں سے تھی جن کا تعلق ہمارے عارضہ اختلاج قلبسے تھا اور ان میں آریودیدک یا ایلوپیتھک کی کوئی قید نہ تھی بلکہ بعض حضرات سے تو ہم نے بیک وقت دونوں نسلوں کی دوائیں بھی حاصل کیں اور اپنی گاڑی کو آگے ریڑھتے رہے۔ اسی طرح کے ایک آریوویدک کم ایلوپیتھک پریکٹیشنر سے ہم نے ایک بار اپنے عارضے کا تذکرہ کیا تو ہمیں پکڑے پکڑے اپنے کلینک میں لے گئے اور ہم ابھی بیٹھنے بھی نہ پائے تھے کہ ہمیں اٹھا بھی دیا۔ یُوں جیسے انہوں نے ہمارے لئے اپنا مجرب نسخہ پہلے ہی سے تیار کر رکھا تھا وہ نسخہ ہم نے بصد عقیدت برتا اور یوں سمجھئے جیسے آوا گون کے قائل ہو گئے۔ تحفظ ذات مانع ورنہ ہم آپ کو اس نسخے کے اثرات کلیہ سے بالجزیات آگاہ کرتے البتہ……

’’گفتہ آئد در حدیثِدیگراں‘‘ کا مقولہ اگر درست ہے تو ایک حکایت یاد پڑتی ہے جو کُچھ یوں ہے کہتے ہیں کہ کسی اہلِ ایمان نے کسی گرجدار مبلغ کا وعظ سنا تو دل سے اٹھی ہوئی بات اس کے دل میں بیٹھ گئی ۔ بات کو حرزِجان بنائے گھر آیا تو گھر کی ایک ایک شہ راہِ خدا میں لٹا دی یہاں تک کہ اس نے ستر ڈھانپنے کے سوا تن بدن پر موجود لباس بھی راہ ااﷲ مستحقین کے حوالے کر دیا اور گفتۂ واعط کے تحت اس امر کا انتظار کرنے لگا کے کب خدا دینے والوں کو دُگنا دیتا ہے۔ اس دوران میں پہلے تو اس کی مڈ بھیڑ فاقہ مستی سے ہوئی یہ عارضہ ابھی بہ اشتداد موجود تھا کہ ذہنی قوٰی نے بھی جواب دینا شروع کر دیا۔ ذہن اور جسم دونوں پر وار ہوا تو اپنے کئے پر پچھتانے سے ایک تیسرا فریق بھی ناراض ہو گیا۔ یعنی یہ کہ بے چارے کا پیٹ چل گیا۔ داغ چلنے کی نوبت تو ابھی کہیں دور تھی، پیٹ کیا چلا کہ قدموں نے بھی چلنے سے انکار کر دیا، دیہات کا رہنے والا تھا کھیتوں کے پھیرے لگاتا لگاتا عاجز آیا تو وہیں ڈیرہ جما لیا اور کیفیت یہ ہو گئی کہ رفع حاجت کے بعد اس کے لئے اٹھنا بھی امرِ محال ہونے لگا۔ ایسی ہی ایک کوشش میں اٹھنا چاہا تو مجبوراً ایک جھاڑی کا سہارا لینا پڑ ا۔ جس کی جڑیں خیر سے اس سے بھی زیادہ کھوکھلی تھیں، چنانچہ جھاڑی اس مردِ نحیف کے خفیف جھٹکے ہی سے اکھڑ کر اس کے قدموں میں آپڑی۔ اب اسے اتفاق کہیے یا رحمتِ ایزدی کے اسی جھاڑی نے اسے گفتۂ واعظ کے برحق ہونے کی دلیل بھی مہیا کر دی کہ جھاڑی کے نیچے سے وہی زرِ سرخبرآمد ہوئی جسے بقولِ واعظ اس کے ذاتی اثاثے کا دگنا کہا جا سکتا تھا اس نے وہ زر سرخ ہانپتے سینے اور کانپتے ہاتھوں کے زور سے سمیٹی اور ان ہی قدموں واپس آگیا۔ جو چند لمحے پہلے اسے جواب دے چکے تھے۔ پھر کیا ہوا اس کی تفصیل ضروری نہیں۔

؎ چن چڑھیا کل عالم دیکھے

لوگ باگ جنہیں اس کی سابقہ سخاوت کا علم ہو چکا تھا۔ بڑی عقیدت کے ساتھ اس کے ہاں آتے اس کے ہاتھ چومتے اسے مبارک باد دیتے اور اس سے پوچھتے کہ یہ سار کُچھ ہونے کو تو ہو گیا لیکن اتنا تو کہیے کہ ہوا کیسے؟ جس کے جواب میں وہ صرف ایک ہی فقرہ دہراتا:

خدا دینید یاں نوں دیندا تے ہے پر ذرا……

موانست کی ضمن میں ہمارے وہ دوکاندار دوست آتے تھے جو اپنی ہری بھری تجارت کے علاوہ علم و ادب سے بھی سر راہے کی ملاقات رکھتے تھے ان کی تعداد اگرچہ ایک سے زیادہ تھی تاہم ان میں قابلِ ذکر شخصیت ایک ہی تھی جن کی دلچسپی علم وادب سے ذرا آگے شعر وشاعری سے بھی تھی لیکن ہمیں اُب کی ذہانت سے نسبتاً زیادہ پیار تھا جو حالات کی موافقت سے کُچھ ایسی ڈمپ ہوئی کہ اس نے انہیں اپنے ماحول کا ایک مردِ خوفناک بنا دیا۔

موصوف ایک ریٹائرڈ سگنل مین تھے اور جنگ عظیم دوم میں بالقصد شریک رہ چکے تھے ہمارا ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہوا تو ملاقاتوں کا سلسلہ کچھ زیادہ ہی طول پکڑتا گیا، یہاں تک کہ نوبت ہم پیالہ و ہم نونالہ ہونے تک جا پہنچی، ابتدائی مملاقاتوں میں موصوف ایک دن اپنے گاؤں سے تشریف لائے تو ہم کہ ان کی دوکان کے قریب ہی پائے جاتے تھے پکڑے گئے، انہوں نے سائیکل وغیرہ اپنی جگہ پر ٹکائی، دوکان کھولی، اسے جھڑا پونچھا اور بڑے خفیہ انداز میں ایک دو دھاری قرولی اپنے ڈُبے سے نکال کر اپنی نشست گاہ کے نیچے رکھ دی ہم نے ان کی اس ذاتی حرکت کو بھنپ تو لیا تھا، استفسار سے باز نہ آئے کہ دل کے کمزور واقع ہوئے تھے جس پرانہوں نے کہا۔

اوہ: ماسٹر صاحب ہم غریبوں کو ویسے کون جینے دیتا ہے آپ کو شاید علم نہ ہو کے اس بھرے بازارمیں آپ کے اس خاکسار کو اس حوالے سے زیادہ پہچانتے ہیں ہم نے ان کی اس حیثیت کی تفصیل بالاختصار پوچھی تو کہتے لگے

’’یہی خاکشار ہے جس نے اس آبادی کے سب سے بڑے پھنے خان کو اسی دکان کے تھڑے پر چاروں شانے چت لٹایا اور اس سے اس رقم کی وصولی کی وجوہ اپنی چودھراہٹکے ٹیکس کے طور پر ہما شما قسم کے دوکانداروں سے ادھار کے سودے کی صورت میں ہتھیایا کرتا ہے‘‘

عاقل رااشارہ کافیست ہم عاقل تو نہ تھے لیکن کچھ کچھ سگنل ضرور ریصیو کر لیتے تھے لہذا ہم نے سازش یہ کی کہ اس جوان وحشت اک کو بزدل بنانے کی ٹھان لی بالکل اسی طرح جیسے مشہور ہے کہ کسی دیہاتی نے دو بچوں کے اعلٰی تعلیم دلائی لیکن ایک دن جب کسی سے جھگرا کر کے وہ خون میں لت پت اپنے گھر پہنچا اور اپنے دونوں بیٹوں کو للکارا کہ اٹھو اور جا کر اس ناہجاز کی تکہ بوٹی ایک کر دو جس نے تمہارے ہوتے سوتے میرا یہ حشر کیا ہے تو یہ فریادِ پدری سن کر اس کے دونوں بیٹے پہلے تو بلبلا اٹھے لیکن جونہی ہتھیار قسم کی کوئی چیز اُن کے ہاتھوں میں آئی اُن کے ذہنوں میں موجود علم قانون کی ان دفعات نے بھی بیدار ہونا شروع کر دیا جن کے تحت یہ فعل بلوے کی زد میں آتا تھا چنانچہ دونوں نے فیصلہ قانونی کاروائی کا کیا جس پران کے باپ نے سرِ شام اپنے مکان پر چڑھ کر ہوکا لگایا ’’ہوکا اوئے لوکا! کوئی ہے جیہڑا میرے دو پڑھاکو پُتر لے کے اک ان پڑھ تے ڈانگ ما پُتر مینوں دے دے۔ ہوکا، اوئے لوکا…!!!‘‘

سو حضرات ہماری اس سازش کا لُب لباب بھی کچھ ایسی ہی سکیم تھا جس کانتیجہ یہ نکلا کہ وہ صاحب جن کی دو دھاری چھری کی چمک ہماری آنکھوں کو خیال ہی خیال میں آج بھی چندھیائے دیتی ہے، خدا جانے کہاں رہ گئی کہ اب وہ حضرت اپنی تکڑی تول کے سارے سامان کا نیلام بول کر ( بلکہ بقول طارق عزیز اپنا گھر کا گھر لٹا کے ) اپنے علاقے کے صاحب قرولی اصحاب کو قانون کی گرفت سے نجات دلایا کرتے ہیں ہماری مراد ان کے پیشہوکالت سے ہے۔

ایں سعادت بزور بازو نیست

تا نہ بخشد ، خدائے بخشندہ

ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s