کچّے دَھاگے سے کھنچی آئیگی سرکار مری

ہم آسمان سے زمین پر کیا آئے گویا اپنے آپ میں آ گئے نہ وُہ پہلی سی ہوا آشامی تھی،نہ بادِصبا کسی شوخ آنچل کی مہک ہم تک پہنچاتی نہ سورج کی کرن کسی آرائش جمال سے فارغ چہرے کو ہم پر منعکس کرتی۔ اور نہ ہی کسی نگاہوں کے قلاباز کبوتر کسی منڈیر پر آکر یا جا کر غٹرغوں راگ الاپا کرتے اس لئے کہ ہم جہاں منتقل ہوئے تھے۔ وہ بیٹھے ہماری مجردانہ زندگی کی طرح ایک لمبی گلی کی نکڑ پر واقع تھی جس کی دونوں کھڑکیاں دیدہ ہائے یعقوب کی طرح اکثر بے نور رہتیں یعنی محض رات کو کھول کر خواب ہائے پریشاں کے خفیہ داخلے کے لئے رکھی گئی تھیں۔ دن کو ان کا کھولنا تعزیراتِ پاکستان کی کھلم کھلا خلاف ورزی کیمترادف تھا اور گلی کنارے کھڑا ہونا تو گویا آبیل مجھے مار کر کو عملی جامہ پہناتا تھا۔ چنانچہ ہم کو پیشے کے نصابی گرداب اور ماحول کے چوطرفہ زہر اب کے اسیر ہونے کے باعث رفتہ رفتہ بیشتر باتوں کی و جامہ و امہ پہنانے کی عادت سے عادی ہونے کا رجحان اپنے جی میں پالے بیٹھے تھے۔ بس بیٹھے ہیح کے ہو کر رہ گئے۔ لیکن دیہی و قصباتی فضاؤں کے رنگ بھی نرالے ہوتے ہیں۔ ملازمین ایسی جگہوں پر شیر قالین ہی کیوں نہ ہوں شیر بیشہ سے کم تصور نہیں کئے جاتے شرط صرف یہ ہے کہ محکمہ مال یا مآل (یعنی انتطامیہ سے متعلق ہوں اور ہم کو بقول کے محکمہ بے مال سے متعلق تھے۔ بہ نگاہ بیم نہیں تو بہ نظر نیم استعجاب ضرور دیکھے دیکھے جاتے تھے چنانچہ اس ناتے کچھ کچھ شیر بیشہ ہم بھی تھے۔

علاوہ ازیں شاعری کی وہ کر جو ہمیں لگی تھی چھوٹے سے قصبے میں کمپنی کی مشہوری کو کچھ کم ناکافی نہ تھی۔ اس لئے کہ (دروغ برگردن راوی) ایسی جگہوں پر تو محض کبڈی کا کھلاڑی یا کسی قدر ممتاز بٹیر باز ہونا بھی بعض حالات میں متعدد غیر متوقع نتائج کا حامل ہوا کرتا تھا اور یہ صورت حال بقول بزرگان (یدنی پٹواریاں و گرداوران) اسی ایک جگہ تک محدود نہ تھی۔ قصبہ یا دیہات مزاجاً یا استحصالاً اس اتفاقیہ قدردانی میں ایک جیسے ہوتے ہیں چنانچہ ہمارے پردہ نشین ہو جانے کے باوجود کیڑے کو پتھر میں خوراک کی فراہمی کا بندوبست از خود ہی ہونے لگا؎

آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں

کوئی دست غیبی تھا کہ ہماری بیٹھک کی کھڑکیوں کو ٹھکور

کر آناً فاناً غائب ہو جاتا ابتداً تو ہم نے اسے بچّوں کی چھیڑ چھاڑ پر محمول کیا۔ لیکن کسی دیہاتی استاد کا دروازہ بچے اور کسی کانسٹیبل یاحوالدار کا دروازہ دیہاتی ذرا کم ہی کھٹکھٹاتے ہیں لہذا جب واہمہ کسی صورت وبائے نہ دب سکا۔ تو ہم پہلے پہل محض دوزنِ نیم واسے اور پھر دروازے کے وسط سے جھانک جھانک کر اس دستِ غیبی کا کھوج لگانیلگے لیکن اس راز کی سربستگی میں ہفتوں تک قطعاً کوئی فرق نہ آیا؎

کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ۹ گری کس کی ہے

پردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نے بنے

یہاں تک کہ…… بحمد اﷲ… ہم دیہات کے ایک اور آبائی و وبائی مرض یعنی جنات کے چکر میں پڑتے پڑتے رہ گئے اور وہ اسطرح کہ ایکدن چور موقع وارداتپر پکڑا گیا۔ ہماری بیٹھک کی کھڑکیاں ٹھکورنے والاہاتھایک بُت طنّار کے کسی جذبۂ بے خود سے مجبوراس عمل پر مامور تھااور وہ بت طناز و غالیہ مو……اپنے مشک نافے کی اہمیت سے بے نیاز خانوادے کی آب رسانیپر مامور…… ہم پر اس منظر کے کھلنیکے پہلیہی روز کشف کی جو کیفیت طاری ہوئی بیان سے باہر ہے۔ دو گھڑیوں کے بوجھ سے دہری ہو جاتی کمر یا اور کمان سے کہیں زیادہ تن جانے والا سینہاور سر کے پیچھے باہم پیوست ہاھوں سے قوس قزح بناتے بازو اور اس سارے منظر پر سرخ و چہرے کا بے مثل عنوان؎

ہر حرف چاہتا تھا اسی پر رکے رہیں!

کیا کیا تھے باب اسکے بدن کی کتاب میں

والا قصہ تھا۔

وہ دن گزرا تو وہ لمحے بھی جلد ہی آگئے جب جوگن سے آنکھیں چار ہوئیں اور جُھک کر ہم نے سلام کیا…… اور یہ سلسلہ تمام تر وضع احتیاط کے باوجود دراز سے دراز تر ہی ہوتا گیا۔

ایک اک کر کے ہوئے جاتے ہیں تارے روشن

میری منزل کی طرف تیرے قدم آتے ہیں

بالآخر ہم نے قدموں کے اپنی منزل کی جانب بڑھنے کا یہ سماں بھی دیکھا اور الہامی کیفیات کے صدق پر پہلی بار ایمان لائے کھڑکی کو ٹھوکر لگنے میں ابھی کچھ ثانیے باقی ہوتے کہ ہمارے دل کے کواڑ پہلیہی بجنے لگتے ہم دروازہ کھولتے اور……؎

صُبح دم دروازہ خاور کُھلا

یہ دروازہ تقریباً روزانہ ہی کھولا جانے لگا لیکن کسی اور دروازے کے کھلنے کی نوبت ابھی نہیں آئی تھی کہ یکایک ہماری نقل مکانی کے احکامات جاری ہو گئے یعنی مالکانِ مکان چھٹیاں گزرانے اچانک کہیں سے ٹپک پڑے اور ہم قبل اس سے کہ کسی مصطفی زیدی کی راہ پر چل نکلتے بال بال بچ گئے اور بڑی عافیت سے ایک اور بیٹھک میں منتقل ہو گئے۔

ہماری ایک اور صاحب سے کہ طبیعت کے منچلے اور معیشت کے ستائے ہوئے تھے تھوڑی بہت صاحب سلامت چلی آ رہی تھی مگربس اسی حد تک کہ ہم نے ان کی دہلیز سے ادھر اور انہوں نے ہماری دہلیز سیادھر یعنی ہماری قیام گاہ تک کبھی قدم رنجہ نہیں فرمایا تھا، ہم نے ایک دن موصوف کے گھر سے کسی تقریب میں جانے والی کرسیاں دیکھیں جن کے ہمراہ بھیجی جانے والی گدیوں پر کشیدہ کاری کے کچھ ایسے مرقعے تھے جنہیں ہم دیکھتے ہی رہ گئے۔ ہر چند اس سے پہلے ہماری اس فن پر گہری و کیا چھچھلتی نظر بھی نہ تھی، مگر؎

مشک آن است کہ خود ببوید

کشیدہ کاری کے کمال نے ہمیں تو جیسے مسحوری کر ڈالا بعد میں ان سے استفسار ہوا تو پتہ چلا کہ یہ فن ان کے اپنے ہی گھرکی کھیتی ہے یعنی ان کی اہلیہ محترمہ کے ہاتھوں کا کرشمہ جنبش ہے ہمیں متعجب اور پھر خاموش ہوتے دیکھا تو انہوں نے جیسیہماریدل میں چھپی فرمائش ازخود ہی بھانپ لی جسے بصد ستائش انہوں نے قبول بھی کر لیا اور ہم کہ کڑھائی کا یہ نمو نہ محض ڈیکوریشن پیس کے طور پر حاصل کرنا چاہتے تھے موقع پر ہی اس فیصلے سے آگاہ کردئیے گئے۔ اور وہ فیصلہ یہ تھا کہ وہ ہمیں کرسیوں کی گدیاں تو نہیں کہ یہ کام ذرا زیادہ محنت طلب تھا، سرہانے کا ایک آدھ غلاف ضرور کڑھوا دیں گے۔ جسے ہم نے خدا جانیکیوں بچوں جیسی خواہش سے قبول کر لیا اور غلاف کا پکڑا ان کے تامل و تردد کے باوجود کھڑے کھڑے خرید کر ان کے حوالے کر دیا۔

تخلیقِ کائنات کے دلچسپ جُرم پر

ہنستا تو ہو گا آپ بھی یزداں کبھی کبھی

ادھر وہ کافر ہ (کہ ہم ایک اور نقل مکلانی کے باوجود پھر اسی کی راہ میں پڑتے تھے) ہماری کھڑکیوں کے سامنے آکر مومن ہو جاتی۔ مگر عین اس جگہ سے چار قدم ادھر اور چار قدم ادھر پہنچ کر اپنے عقیدے سے پھر جایا کرتی یعنی مچھلی جال کو دیکھ کر گہرے پانیو ں میں کھو کھوجاتی۔

کھنچ کر تار نظر حود متوجہ کرنا

کوئی دیکھے و تغافل بھی جتاتے جانا

کا سا منظر تھا کہ روزانہ مرتب ہونے لگا۔ اور پھر ہوتا چلا گیا مگر کچھ اس انداز سے کہ جہاں ایک جانب فضامیں بعد از تجیم تحلیل ہوتا وہاں دوسری جانب ادراک و وجدان میں کچھاور زیادہ گہر ار جاتا اور ہم کہ عاشق عقل پیشہ تھے مجنوں کی طرح از خود رفتہ تو نہ ہونے پائے مگر پوری طرح پاسبانِ عقل کی نگرانی میں بھی نہ تھے گویا مصلحتوں کا لوہا ہلکی مگر مسلسل آنچ پر روز بروز گرم ہو رہا تھا اور گاہ گاہ یوں بھی لگتا کہ جونہی کسی جنون کا سانچہ میسر آیا اس لوہے کو اس میں ڈھل جانے میں ہرگز تامل نہیں ہو گا مگر ایسی کوئی ساعت قریب نہیں آ رہی تھی اور اگر اطمینان تھا تو محض یہی کہ:

آنکھ مچولی کھیلتا نت کھڑکی کے ابر سے

آئے گا وہ چاند بھی پاس کبھی اُس پار سے

ہم نے جو سرہانہ بغرضِ صناعی اپنے شناسا کو دے رکھا تھا تقریباً عرصہ دو ماہ کے بعد سر راہے اس کے متعلق ذکر چھیڑا و وہ صاحب کہنے لگے کہ بس تھوڑی سی کسر باقی ہے۔ اس استفسار کے فوراً ہی بعد وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے اور ہم نے اپنی راہ لی کہ ان سے ہماری مڈبھیڑ اتفاقاً اسی جگہ ہوئی تھی لیکن ہم ابھی چند ہی قدم آگے بڑھے ہوں گے کہ ان کا بھتیجا

کّچے دھاگے سے کھنچی آئے گی سرکار مری

کا پیغام لئے ہمارے دامن کو پکڑتا محسوس ہوا۔ ہمیں واپس بلا لیا گیا تھا اور ہم واپس چلے بھی آئے اس خوشخبری پر کہ سرہانے پر جتنا کچھ کام ہوا ہے خدا راہ وہ تو دیکھتے جائیں۔ چنانچہ اس پراگریس رپورٹ کے ملاحظے کے لئے جب ہم نے اپنے آپ کو ان کے دروازے پر عموداً منطبق کرنا چاہایعنی اندر جانے سے گعرض کیا تو صاحب خانہ بقول ظفر اقبال؎

کہنے سے و وہ بھلے ہی مانے

لے جائیے اس کو بھر کے تھبّی

ہمیں اور دھریک کے گھنے سائے میں چار کرسیاں اور ایک میز دراز تھی اور کرسیوں پروہی گدیاں بچھی تھیں جن کے سوتی پھول ان کے نزدیک ہماری کمزوری قرار پا چکے تھے یعنی ازراہ تواضح چنانچہ ہمارے ہر اقرار کو انکار میں بدل کر ہمیں ان کی کرسیوں میں سے ایک پر جیسے ٹھونس تو کیا ٹھونک دیا گیا۔

موسم گرما کی نم آگیں دوپہر تھی اور دھوپ پتوں سے چھن چھن کر ماضی کی تلخ یادوں کی طرح جسم پر چپک رہی تھی مکان کا بیرونی دروازہ ہمیں اپنا نوالہ بنانے کے بعد بند ہو چکا تھا اور میزبان کی آنکھوں میں ایک بے ضرر نوعیت کا سوال تھا جس کا ہلکا سا اظہار یوں ہوا کہ ٹھنڈا پئیں گے یا گرم لیکن قبل اس سے کہ ہما کی اس دعوت کو تسلیم کرتے، انہوں نے آن کی آن میں اپنے بھتیجے کے ہاتھوں دونوں مشروبات کے لئے خام مال مہیاکرا لیا یعنی لیموں بھی اور چائے کے لئے دودھ بھی۔ ہماری ہر بات جواس طلسماتی فضا میں ہم ان سے کر رہے تھے، بیکری کے خمیر کی طرح سمٹنے بھی نہ پاتی کہ پھر پھیل جاتی یعنی ہماری چھٹی حس پہلیپانچوں حِسوں کو نفس نفس دبائے جا رہی تھی اتنے میں گھر کے کسی قدر معمر کمریکا در نیم باز ہوا۔ یوں جیسیچشم آہو بوجھل نیند کے دوران ذرا سی وا ہوتیہے ایک دستِ حنائی باہر نکلا جس نے چند چواتیوں (چولہے کی لکڑیوں) کو دہلیز سے باہر پٹک دیا۔ ہم کہ کنکھیوں سے ادھر بھی دیکھ رہے تھے اور ادھر بھی اس اجنبی طرز استقبال پر کچھ اور بھی زیادہ ٹھٹھکے اور ابھی سنبھلنے بھی نہ پائے تھے کہ روز محشر کا دروازہ جیسے یکبارگی کھل گیا وہ کافر دوشیزہ جو واضح طور پر اس صحن میں ہماری طرح ہی کی ایک مہمان تھی اور جس سے ہماری آنکھوں اور آنکھوں کے راستے اور بہت سارے قوائے خفتہ کی صاحب سلامت تھی، پوری سج دھج کے ساتھ ہمارے بالمقابل کھڑی تھی، چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے گھر کا چوکا تو کیا، گھر کا گھر لویں دینے لگا۔

کہاں وہ راہ چلتے نشہ قرب کا بے حیشت جرعہ اور کہاں یہ لطف دید کا لبالب بھرا جام بقول میر

کیا لطف تن چھپاہے مرے تنگ پوش میں

اگلا پڑے ہے جامے سے باہر بدن تمام

جس ہستی نے یہ اہتمام کیا تھا اس کے چہرے کے نقوش سراسر گوتمی تھے بجز ایک ہلکی سی غیرمردانہ شوخی کے جو برابر ان کی آنکھوں سے ٹپک رہی تھی مگرکچھ اس طرح جیسے کسی غیر غالب کے گھر کی چھت۔

چائے پک رہی تھی کہ ہمارے نطق و لب نے جیسے جواب دے دیا۔ ہم نے اپنے میزبان کے بھتیجے کوجو کسی کے باوصف چولہے سے ادھر کسی کتاب پر جُھکا ہوا تھا، پانا لانے کا ایک ہلکا سا اشارہ کیا مگر وہ…… جن کے دم سے صحن دور آباد تھے؎

تری آنکھ مستی میں ہشیار کیا تھی

کی تصویر بنے جیسے کانوں بلکہ دیگر اعضائے جسمانی سے بھی ہمیں ٹکر ٹکر دیکھ رہے تھے۔

ہر نظر شاخ سخن تھی پھول پتوں سے لدی

تھا خمارآرزو کچھ اس طرح چھایا ہوا

اُٹھے اور شیشے کے گلاس میں پانی لے کر ہم پر یو جھک گئے۔ جیسے مصور رباعیات خیام کے صفحات پر ساقیان دلنواز جھکے نظر آتے ہیں، شفاف گلاس پر ان کی انگلیوں سے جو تحریر لکھی گئی تھی کچھ ایسی تعّطر آشناثابت ہوئی کہ ہماری پیاسی انگلیو ں کے ذریعے ہماری روح کی پاتال تک اتر گی اور خارج کا عالم کچھ یوُں تھا کہ نگاہوں نے بیٹھے تھے گل لالہ کی اس ہمارے سامنے سے پیالی اٹھا لی گئی گویا طلب ورسد کا متوازن گراف تیار ہورہاتھا۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ وہ ادا کا رمیزبانہ بھی ہمارے ساتھ برابر کی میز پر بیٹھی تھی اور یہ حرکت اسی کی تھی کہ اس نے اپنی با کرہ پیالی تو ہمیں تھمادی اور ہماری جھوٹی پیالی غٹاغٹ خود چڑھا لی۔ ؎

ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہیے

چائے مشام جان میں اتر چکی تو ہمارے اصلی اور وڈے میزبان کھنکارے۔ دھریک سے ادھر پانی سے بھرا آفتابہ اٹھایا اور مکان کے اوپر واقع لیٹرین میں سدھار گئے ۔ ہمارا پہلا پیامی یعنی ان کا بھتیجا پہلے ہی کہیں باہر جا چکا تھا، صحن میں ہم تھے ، خدا تھا اور…

چل چلئے دنیا دی اس نُکرے…

والی ساری مراعات اور ……

گویا ہے تیرا جسم زباں گرچہ ہے خموش

کھنچے ہے تیری سمت جو تیرا کہنا نہ ہو

ہمارے اس احساس کو جیسے اپنے اظہار کی حقیقی منزل مل چکی تھی لیکن جب کنارِ چناب کے مجوزہ عہد و پیمان ہو چکے تو یکا یک ایک دھماکہ ہو۔ یوں جیسے کسی نے ہمیں اٹھا کر کسی گہری گھائی میں سر کے بل دے مارا ہو، ہماری آنکھوں میں خون تھا اور اعصاب میں رعشہ اور روح قفسِ عنصری سے پرواز تو نہ کرے پائی مگر بے ڈور پتنگ کی طرح ڈگمگا ضرور ہی تھی اس لے کہ وہ کافرہ ہمیں یہ پیغام سنا کر لڑکھڑاتے قدموں کمرے کے اندر جارہی تھی۔ ’’آپ سے انہیں بھی ملنا ہے‘‘ یعنی میزبان موصوف کی اہلیہ محترمہ کو بھیلیکن اس سے ذرا مختلف قسم کی تنہآئی میں‘‘ …… اور یہی وہ فقرہ تھا جس کے دھماکے سے ہم گھر پہنچنے تک کسی پہلو سنبھل نہیں رہے تھے اور ابھی اس سلسلے کو کچھ اور بھی دراز ہونا تھا۔

اگلی صبح طلوع ہوئی تو صبحدم ہی ہمارے دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھلا تو وہی لڑکا ٹرے میں ناشتہ لئے حضر تھا جس کے عم بزرگوار کی فردوس شمائل چائے ہم گزشتہ روز نوش جان کر چکے تھے، مگر قبل اس سیکہ ہم وہ من و سلویٰ لینے سے انکار کرتے اچانک گلی کی دوسری نکڑ سے ہمارا ایک مہمان ذی شان آوارد ہوا۔ ہم نے ناشتے کی ٹرے ہاتھ میں لے لی۔ اور سارے کا سارا غصہ دوسریجانب تھوک دیا۔ہاں! اس لڑکے کو اتنی تاکید بقائمی ہوش و حواس ضرور کی کہ خالی برتن کسی وقت آ کر لے جانا اور لگے ہاتھوں مہمان کی تواضح میں جُٹ گئے یعنی پردہ غیب سے آئے ہوئے اس منفرد ناشتے میں اسے بھی شریک کر لیا۔ مگر جب؎

بجز وجدان دلبر کوئی نہپاوے حال عاشق کا

توں میرے راز کے نامے ستی آگاہ قاصد نئیں

پہلا پراٹھا ہی گرہن کی زد میں آیا تو نیچے سے لکہ ابر کی طرح ایک کاغذ دکھائی دیا جسے نگلنا ہمارے لئے ناشتے کے نوالوں سے کہیں زیادہ مشکل ہو گیا مگر ہم اس لمحے اپنے ہاتھ کی صفائی یا حاضر دماغی کی داد دئیے بغیر نہ رہ سکے جب بکمال کامیابی و سربستگی ہم وہ کاغذ وہاں سے اڑا کر اپنی جیب میں اڑس چکے تھے۔

مہمان رُخصت ہوا توہم نے وہ نامۂ آتشیں پڑھا جسے ہماری گزشتہ روز کی پس پردہ میزبانہ نے بدست خود لکھا تھا اور بدہان خود یا بفرمانِ خود بھجوایا تھا اور جس میں دعوت لب و دندان کے علاوہ بھی جانے کیا کچھ رقم تھا۔ دعوتِ لب و دندان کے سلسلے میں یہ تاکید بار بار درج تھی کہ آپ کے طعام کا مکمل بندوبست اب اسی گھر میں رہے گا۔ کپڑوں نیز نظریات کی دھلائی کی دعوت اس پر مستزاد تھی۔

یہ سلسلہ دو ایک روز تک چلا، یعنی ہم ناشتے کا مغز تو نکال لیتے اور چھلکے واپس بھیج دیتے رہے اور وہ مغز اب کسی تشریح کا محتاج کب ہے۔ تیسرے روز ہم نے ان جملہ مغزیات کا جواب لکھنیمیں جیسے قلم ہی توڑ دیا۔ ہمارے اندر کا شاعر زندگی میں پہلی بار کھل کر بولتا دکھائی دیا۔ اس لئے کہ پس نگاہ پکتے ہوئے ایسے ہی لاوؤں کی نقاب کشائی اس کا ایمان تھا۔ اگر اس درجواب آں غزل قسم کے نامے کی کوئی نقل ہم بقائمی جذبات محفوظ رکھ سکتے تو اردو ادب میں کچھ اضافہ ہوتا یا نہ ہوتا… شُہرت عام اور بقائے دوام کیدربار میں ہمارا نام ضرور پکارا جانے لگتا۔ مگر وائے نادانی کہ ہم نے عاقبت اندیشی سے اس وقتکام نہلیا اور یوں یہ متاع گراں مایہ گنوا دی۔ مگر اتنا ہوا کہ اس تحریر نے غالب کے اس بیان کی جگہ ضرور رکھ لی جو ۷۵۹۱ء کے ہنگامے کے دوران اپنے مسلمان ہونے کے ثبوت میں انہوں نے اپنے کسی انگریز حاکم کو دیا تھا۔ اور جان کی امان پائی تھی۔؎

یہاں کسی کو بھی کچھ حسبِ آرزو نہ ملا

کسی کو ہم نے ملے اور ہم کو تو نہ ملا

(ظفرؔ)

ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s