لوٹ جاتی ادُھر کو بھی نظر کیا کیجے

ہم نے اسٹیشن نمبر تین اس لئے نہیں چھوڑا تھا کہ محکمے میں ہمارا نامِنامی ڈیوٹی پر ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے پہنچنے پر خدا نخواستہ بستہ ب کے ملزموں میں لکھا جاے والا تھا اور ہمیں راہ فرار اختیارکئے بغیر اپنا مستقبل صاف صاف تاریک نظر ارہا تھا نہیں ایسی کوئی بات نہیں تھی اس لئے کہ ہم جہاں سے چلے تھے اور جہاں پہنچے تھا مشرق ومغرب کی یہ دونوں حیں ایک ہی دائرہ افق کی پابند یعنی اسی افسرِمعائن کے زیر نگین تھیں جس کے احتسا ب و عتاب اورہدایات و عنائیات کے حلقے میں ہم کچھ دنوں پہلے بیک وقت آچکے تھے بلکہ یہ تبادلہ ہم نے اس لئے کروایا کہ عقل و جنون کی یکجائی ہمارے فنی مستقبل کو اپنی لپیٹ میں لیتی نظر آنے لگی تھی ہماری مراد یقینا طبابت اور شاعری کے یکجا ہو نے سے ہے کہ اس سکول کے ہید ماسٹر صاحب جو سراسر محبت او مودٔت کے مجسمے تھے ہمارے علیحٰدہ ڈیرہ جمانے تک پر راضی نہ تھے مہربان تھے، مشفق تھے، معاون تھے، سب کچھ تھے لیکن ان کا بزرگانہ سایہ کچھ ایسا گھمبیر تھا کہ ہم خواہ

مخواہ اپنے آپ کو ایک طرح سے نظر بند سا محسوس کرنے لگے تھے، اور کچھ یوں بھی تھا کہ ان ہی دنوں ہمارے ادبی بچپن کے ایک ساتھی جنہیں اپنے فن سے کچھ اس طرح کا والہانہ لگاؤ تھا جس طرح کی لگن بعض شوقین نوجوانوں کوکبتر اور باز وغیرہ پالنے سے ہوتی ہے مذکورہ اسٹیشن نمبر چار پر نئے نئے تعینات ہوئے تھے ان سے اس نسبتِ غیر مترقبہ کے علاوہ ہماری ایک اور ننھی منی نسبت یہ بھی تھی کہ ہمارے ایک نہایت ہی مربی و محسن استادِ مکرم کے برادر عزیز تھے۔

ہم مذکورہ مقام پر پہنچے تو اسے پہلے مقامات سے کہیں زیادہ کشادہ ظرف اور پُر سحر پایا اس لئے کہ ایک تو اس کا محلِ وقوع انگریزی طرز کی جدید کوٹھیوں کی طرح بیک وقت کچے پکے دونوں رنگوں سے ترتیب پایا تھا کہ اس تک پہنچنے کے لئے ٹانگوں یا بس کے ذریعے جو مسافت طے کرنا پڑتی آخر میں جا کے میل ڈیڑھ میل کی حد تک کچے راستے پر مشتمل تھی لہذا جہاں مسافر کی آنکھیں پکی سڑک کی صلابت سے پتھرانے سی لگتیں وہاں آخر آخر کھری کھری مٹی کا سوندھا پن بھی اسی کے استقبال کو آتا۔ دریا کے پاٹ کا ایک برساتی نالہ بلا اجازت ہی گزر رہا تھا اور ان مناظر سے لطف اندوز ہونے کا سلسلہ اس لئے برابر جاری رہتا کہ سکول گاؤں کی بغل میں واقع اسی نالے کے اُس پار پہاڑوں کے تصواراتی دامن میں پڑتا تھا۔

ہم اسٹیشن مذکور پر کیا پہنچے گویا کسی وفاقی ادارے میں پہنچ گئے اس لئے کہ ہاسٹل کے نام پر ایک بہت بڑی عمارت کے سکول کے ساتھ منسلک ہونے کے باعث ہمیں اب کسی کانجی ہاؤس میں بند رہنے کا کوئی خدشہ نہ تھا۔ اور طلبہ کی کمی اور رقبے کی زیادتی کی وجہ سے ہاسٹل اتنا وسیع تھا کہ ہمیں جاتے ہی اپنے مذکورہ دوست کے کمرے کے عین پہلو میں ایک کمرہ

بھی مل گیا جس میں ہم ماضی کی سہانی یادوں اور مستقبل کے تابناک منصوبوں کے ہمراہ یوں گُھس گئے جیسے کسی اقلیتی فرقے کو کسی ملک کے معاملاتِ قصا و قدر میں اچانک دخل حاصل ہو گیا ہو۔

ہاسٹل سے سکول تک جانے کا راستہ سہگل برادری کے نصیبوں کی طرح کچھ زیادہ ہی وسیع تھا۔ جس میں اگر کوئی نشیب بھی آتا تو اس پر چلتے ہوئے ہمیں یوں محسوس ہوتا جیسے کیس بڑے خاندان کے لاڈلے سکٹنگ کے شغل میں مصروف ہوں۔ اور اس نشیب میں پہنچ کر جو کچھ دیکھنے میں آتا

عالمِ جوش جنوں میں ہے روا کیا کیا کُچھ

کہئے کیا حکم ہے دیوانہ بنوں یا نہ بنوں

اس کی تفصیل اگرچہ وضع احتیاط کی متقاضی ہے کہ دیاتوں میں بودوباش کا سلسلہ شہروں کی نسبتبہت سارا مختلف ہوتا ہے تاہم ابن۳ آدم کے اندر بھی کئی دنیائیں آبد ہیں اور وہ چاہے تہذیبی اعتبار سے کتنے ہی بندھنوں میں کیوں نہ گھرا ہو اس کی ایک کھڑکی اس کے کچھ وحشی جذبوں کی جانب بھی ضرور کھلتی ہے مثلاً یہی کہ مقامِ مذکور کا ذکر تو ہم بعد میں کریں گے گزشتہ سٹیشنوں میں سے ایک سٹیشن پر گاؤں کا تالاب سکول سے کچھ ہی دور واقع تھا جہاں گؤں کی لڑکیاں،بالیاں اور گھروں گھاٹوں والیاں کپرے وغیرہ دھونے آیا کرتی تھیں، سکول کے ایک بازو کی کھرکیاں چونکہ اسی تالاب کی جنب کھطتی تھیں لہذا دورانِ تدریس

لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئیش

اساتذہ کی نظر اکثر اوقات ادھر بھی پھسل جایا کرتی اور پڑھانے کا سارا انہماک درہم برہم ہو کر رہ جاتا اس لئے کہ تالاب پر موجود بیبیاں کنارِ آب پہنچتے ہی اپنے سروں پر اٹھائی کپڑوں کی گھٹڑیاں ہی نہ کھلتیں بلکہ دھوئے جانے والے کپڑوں میں اپنے تن بدن کے کپڑے سب ے پہلے شامل کرتے جس کی دو وجوہات یہ تھیں کہ بیشتر حالات میں ایک تو ہمارے دیہاتیوں کو اپنا ستر ڈھانپنے کے لئے بالعموں ایک آدھ جوڑا ہی میسر آتا ہے اور دوسرا یہ کہ تن بدن کے کپڑوں کو سب سے پہلے دھونا اس لئے بھی ضروری ہو جاتا… کہ انہیں یہی کپڑے پہن کر واپس بھی جانا ہوتا تھا تاہم ایک جانب تو اس آزادانہ حرکت کو بے شک اہلِ دیہہ کی مجبوری کا نام دے دیجئے جس کی ذمہ داری کے ڈانڈے خدا جانے آگے کہاں کہاں جا کے ملتے ہیں لیکن اسے کیا کہا جائے کہ دوسری جانب

چمک سے برق کی کمتر ہے وقفۂ دیدار

نظر ہٹی کہ اسے ہاتھ اک بہانہ لگا

اہل دیہہ کے لڑکوں بالوں میں اپنی اٹھتی ہوئی جوانی کے جذبوں کی درپردہ یا ہوا ئی تسکین کا یہ لپکا بھی تھا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے مذکورہ ماحول کے بعض خفیہ گوشوں میں متعدد بار کھفتے پیتے گھرانوں کے کچھ ایسے گمراہ نوجوانوں کو بھی دیکھا جو اپنے چہروں پر شعبۂ بے حیائی کی دُور بینیں سجائے کسبِ بینائی کے شغل میں برابر مصروف نظر آیا کرتے تھے۔

اور اب کہ اس طرح کی صورتِ حال ہماری روزمرہ کی گزرگاہ کے عین بیچ میں پڑتی تھی محضایک تالاب تک محدود نہ تھی بلکہ جس طرح پہلے مذکور ہے مذکورہ نالے کا پاٹ خیر

سے خاصا بڑا تھا جس کے کسی حصے پر محض ٹھڈا مارنے سے بھی پانی جنت کے ثمرہائے اویزاں کی طرح ازخود لبانِ تشنہ کی طرف بڑھنے لگتا، ہمیں اس بات کا پورا پورا احساس ہے کہ ہمارے دیہاتی بھائی ہزار نادار سہی لیکن وہ اپنی زندگیاں تک تحفط ناموس کے نام پر لٹانے میں کبھی دریع نہیں کرتے البتہ پنجابی فلموں نے دیہات کے اس جذبے کو جس طرز ادا کی آڑ میں بدنام کیا ہے وہ دیہات کے اسی کمزور پہلو سے پھوٹتی ہے کہ زن، زر، زمین میں سے اول الذکر اپنے مردوں کی اس بڑی ذمہ داری کو بعض حالات میں ذرا لائٹ ہی لیتی ہیں تاآنکہ ان کے رکھوالے ان کی اس بے احتیاھی کی بھینٹ نہیں چڑھ جاتے سو مذکورہ نالے کے پاٹ میں بھی پانی کی دستیابی کے لئے ایسے مچامات کا انتخاب جو رہ نوردوں کی عین زد میں آتے ہوں ہمارے اسی طرح کے احساس کی ترجمانی کرتا تھا۔

ہم صبح دم سکول جاتے تو نقصِ امن کی کسی واردات کے وقوع پذیر ہونے کا کوئی خدشہ اس لئے نہیں ہوتا تھا کہ اس ہمگام کچھ تو گاؤں کی بیبیاں اپنے گھریلو کام کاج میں مصروف ہوتیں اور کچھ یہ بھی تھا کہ وہ وقت محض پانی لانے کا ہوتا تھا پانی سے کھل کھیلنے کا نہیں لیکن جب وقت سکول سے واپسی کا آتا تو صورتِ حال مذکورہ سابقہ تالاب جیسی ہوتی جہاں کھلے آسمان کے نیچے قطعی فطری مناظر سے آنکھ بچانے کو ہمارے لئے ضروری تھا کہ یا تو ہم دور ہی سے کسی نعت یا مولود کے الفاظ گنگنانے لگتے کے اگر کسی مخالفانہ قوت کے کانوں میں پڑ بھی جاتے تو قابلِ مواخذہ نہ ہوتے اور یوں اس محو تطہیر بدن مخلوق کو سنھبلنے کا احساس دلا دیتے یا ایک آدھ مخصوص عربی رومال اپنے کندھوں پر ڈالے رکھتے او ر اس پُر خطر فضا میں سے

گزرتے ہوئے اپنی مروانہ شرم و حیا کا تحفظ اپنی نظروں کو مقید کر لینے سے کرتے لیکن روزمرہ اس طرح کا اہتمام ہمارے لئے عذاب جان اس لئے تھا کہ ایک تو ضروری نہ تھا کہ ایسے موقعوں پر نعت و مناجات وغیرہ کے کلمات ہر لحظہ ہمارے وردِ زبجن رہ سکتے اور دوسرا یہ بھی لازم نہ تھا کہ پینٹ بوشرٹ جیسے بدیسی لباس کے ساتھ عربی رومال بھی ہمہ وقتی ہمارے پاس ہوتا سو باہمی گفتو شنیدکے بعد ہم چار پانچ ہاسٹل نشینوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اپنے زیر اثر ننھی مخلوق کو وہ گڑھے بھر دینے پر مامور کر دیا جائے جو عین ہماری راہ میں آتے ہیں کہ بقائے امن کی راہِ اعتدال یہی ہو سکتی تھی؎ش

سوچتا کُچھ ہے تو کرتا کُچھ ہے

آدمی ہوتا ہے جب مشکل میں،

ہم نے ایک دوبار یہ سرا سر عیر قانونی حرکت تو کرڈالی لیکن مرحلہ جب اس کے ردِ عمل کا آیا تو ہمارا واسطہ نیم محکمانہ احکامات سے بھی جا پڑا کے اس دراز حرکتی کی شکایت کے لئے متاثرین دیہہ نے آناً فاناً انصاف کی زنجیر کھینچ ڈالی؎

ہوا کہ چھیڑنے کی عادتِ بد

مقدر میں مرے رنج و تعب تھا

چنانچہ اس نازک صورتِ حال میں بھی ہمیں گفتۂ غالب ہی کا قائل ہونا پڑا؎

رنج سے خوگر ہو انساں تو مٹ جاتا ہے رنج

مشکلیں اتنی پڑیں مُجھ پر کہ آساں ہو گئیں

ادھر وہ جگہ جو ہماری قیام گاہ تھی اپنے اندر کئی بوالعجمیاں رکھتی تھی،ہمیں ہاسٹل کی زندگی کا تجربہ نہ تھا صرف کچھ آداب سے آگاہی تھی اور ہو بھی پطرس مرحوم کی زبانی لیکن ان آداب میں فرق یہ تھا کہ ہم ہاسٹل میں حصولِ تعلیم کے لئے مقیم نہ تھے بلکہ بہر تدریس براجمان تھے اور کچھ ایسے تنہا بھی نہ تھے ہم نے کہ برسوں سے اپنے باورچی خود چلے آرہے تھے جب پہلے ہی روز باورچی کا پکا چکھا تو زندگی میں پہلی بار اس سوتیلے پن کی کنکریاں ہمیں دانتوں تلے کرکراتی محسوس ہوئیں جن سے پورن بھگت جیسے خدا جانے کتنے ہی جیالوں کو واسطہ رہا ہو گا۔

ہاسٹل کا باورچی میٹھی زبان، تیکھی چال اور اپنی دراز قامتی کی وجہ سے اپنی نوکری محفوظ رکھنے میں تو ماہر تھا ہی شاید کھانا پکانے میں بھی ماہر ہو لیکن جو کچھ وہ بالفعل کرتا اس سے اس فنی مہارت کا مظاہرہ ہرگز نہیں ہوتا تھا ایک اور مشکل جو ہمارے علاوہ ایک دو اور میانہ قامت حضرات کو در پیش تھی یہ تھی کہ موصوف کا قد سرو صنوبر سے بھی کہیں نکلتا ہوا تھا جں کی موجودگی ہمہ دم الٹا ہم سے تکریم و تعظیم کاتقاضا کرتی رہتی اور یہ ایک ایسی قباحت جس سے چھٹکارا ممکن تو نہ تھا لیکن پرہیز کی صورتیں البتہ نکل سکتی تھیں جن میں سے ایک صورت ہم نے یہ نکالی کہ اپنا ’’چلہا چونکا‘‘ اس تعلیمی کیمپ میں بھی علیٰحدہ جما لیا۔

ہم اس سے بچ کے چلتے ہیں جو رستہ عام ہوجائے

اس علٰیحدگی کا اور کچھ فا ئدہ تو ہوا نہ ہوا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ اپنے ہم نفس ساتھیوں پر ہمارے نیم رئیسانہ بلکہ مجنونانہ ٹھاٹھ باٹھ کا سکہ برابر جمنے لگا کیونکہ ان کا بل اگر چوبیس روپے فی کس ماہوار آتا تو تھا توہم ان کے اسی بل کوچوکا لگاتے نظر آتے تھے یعنی ہر ماہ

اپنی یک صد تنخواہ میں سے چھیانوے روپے خرچ کر بیٹھے بلکہ باقی چار روپے بھی باورچی کی چپاتیاں پکانے کی خدمت ہی کی نذر ہو جایا کرتے۔

ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s