اساد کنٹرپیٹ اور ہم

دیہاتی مدرسین کے لئے حالات میں تبدیلی پیدا کرنا بیشتر صورتوں میں اسی طرح مشکل ہوتا ہے جیسے بارانی زمینوں میں کپاس کی فصل اگانا، وضع قطع بدلنا بھی کچھ سہل نہیں البتہ مکانات کا بدلتے رہنا ان لوگوں کامحبوب مشغلہ رہتا ہے جس میحں پھر زیادہ عمل دخل خارجی حالات ہی کا ہوتا ہے۔ اس لئے کہ ملک عزیز میں تازہ جمہوریت کی بحالی کے بعد کے دیہاتوں کا حال تو ہمیں معلوم نہیں البتہ ان دنوں ایسی جگہوں پر مکانات بلا کرایہ ہی مل جاتے تھے ہاں بعض حالات میں ایسا ضرور ہوتا تھا کہ مالکان مکان نے فصلوں کی کٹائی وغیرہ کرنے موسم بھر کے لئے کھیتوں کھلیانوں میں جانا ہوتا تو اپنا سجا سجایا مکان محلے کے ماسٹر جی کے سپرد کر دیتے تھے جس میں رہائش کے علاوہ اس کی دربانی کے غیرمحسوس فرائض بھی ماسٹر صاحب ہی کو ادا کرنا پڑتے تھے لیکن جونہی رُت پھرتی یعنی اہل مکان کے فراغت کے دن آتے ماسٹر جی کو بھی مکان سمیت ان فرائض غیرمنصبی سے سبکدوش کر دیا جاتا۔

ایسے حالات میں ہمارا آئے دنوں مکان بدلتے رہنا کچھ ایسے اچنبھے کی بات نہ تھی۔ چنانچہ اپنے ہاتھوں تیار کردہ مجسمے کا سرقلم کرانے کے بعد جس مکان میں منتقل ہوئے تھے ہمیں وہ بھی جلد ہی خالی کرنا پڑا اور اب کہ فصلو ں کی کٹائی یا بیجائی کا موسم ابھی مہینوں دور تھا ہمیں کوئی ایسا ٹھکانہ نہ ملنے پایا جہاں ہم اپنی دیڑھ فٹ لمبی سند سمیت سکون و اطمینان سے رہ سکتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی یہ امر بھی ناممکن تھا کہ ہم قصبے کی چونگی کے خیمے میں منتقل ہو جاتے، لہذا طوعاً کرہاً ہمیں اسی شاملاتِ مدرسہ میں آنا پڑا جسے انگریزی میں تو بھلا سا نامدیا جاتا تھا یعنی بیچلرز ہیڈکوارٹر، مخفف جس کا بی ایچ کیو تھا لیکن جس کابنیادی حقیقی اور عوامینام وہی کانجی ہاؤس تھی۔ جس سے ہماری مڈبھیڑ

اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے

والے زمانے میں ہوئی تھی، فرق صرف یہ تھا کہ اب اس مکان کے مکین ایک اور صاحب تھے جو کچھ دنوں سے ہمارے رفیق کار ہوئیتھے اور کانجی ہاؤس مذکور میں اپنی پروبیشن پیریڈ گزار رہے تھے اور حق بات تو یہ ہے کہ ہمیں اب کے کانجی ہاؤس بوجوہ ناگوار لگا جن میں سیایک درجہ کانجی ہاؤس میں ہمارے پہلے شریک مائدہ صاحب کی ناروا عدم موجودگی بھی تھی؎

ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسدؔ

مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے

کانجی ہاؤس کے موجودہ مکین سابق فوجی تھے اور جنگ عظیم دوم تک میں بالجسد شریک رہ چکے تھیاور سروس ہی کے دوران میں انہوں نے آخری عمرکا توشہ یہ حاصل کر لیا تھا کہ تدریسی ڈپلومہ ساتھ ہی لیتے آئے تھے، ان کی زندگی چونکہ کسی بالغ شاخ کیطرح عسکری فضا سے خاصی مختلف فضا میں داخل ہو رہی تھیلہذا اس شاخ میں کسی قسم کے جھکاؤکاپیدا ہونا یقینا ایک غیرفطری عمل تھا۔

وہکہنے کو تو سکول ٹیچر ہو گئے لیکن رفتار و گفتار کے اعتبار سیاب بھی بھرپور جوان نظر آتے تھے اور مخصوص گرائمر کی زبان میں نئے ماحول کا سایہ تک اپنے اوپر نہیں پڑنے دیتے تھے، یہاں تک کہ ٹرن آؤٹ، مورال ری ٹریٹ وغیرہ جیسے الفاظ تو وہ سبزیوں ترکاریوں اورچھوٹے بڑے گوشت کی خرید کے سلسلے میں بھی استعمال میں لانے سے باز نہ آتے۔

موصوف ہمارے ڈاکیے یار کی طرح رنگ اور ہٹ دونوں کے سخت پکے تھے لیکن ان میں اور ہمارے پیام بر ساتھی میں فرق یہ تھا کہ ایک تو انہیں مرچوں سے بلا کی نفرت تھی، حالانکہ آپ بھی پیدائشی طور پر رہنے والے سرحد پار ہی کے تھے اور دوسرا یہ کہ گفتگو میں راشننگ کے کچھ زیادہ ہی قائل تھے۔

جہاں تک ان کے رہائشی آداب کا تعلق تھا وہ بھی ان کی عادات کی طرح بڑے اٹل تھے اور عادات ان کی یہ تھیں کہ کلچیٹ پہلی آواز کے ساتھ ہی بیدار ہو جاتے محلے کے

کنوئیں سے پانی کی دو بڑی بالٹیاں ایک ساتھ لبا لب بھر کر لاتے اور کانجی ہاؤس کے عام استعمال کے کمرے میں گھس کر دو دو گھنٹے تک علاقہ ہائے دورو نزدیک کو سیلاب آشنا کرتے رہتے تاآنکہ مسجد کا مؤذن اذان دیتا اور وہ جانماز بچھا کر سر بسجود ہو جاتے۔ اس مرحلے پر یوں تو ہم بھی گا ہ گاہ ان کے شریک رہے لیکن جو مرحلہ اس کے بعد پڑتا وہ ؤاصا اعصاب آزما تھا، اور یہ تھا کہ موصوف کانجی ہاؤس کو جیسے گورنمنٹ ہاسٹل بنانے پر تلے ہوئے تھے۔ نماز سے فارغ ہوتے ہی کمروں اور آنگن کے فرشکو جھاڑو سے یوں رگڑنے لگتے جیسے کوئی مُعمر رنڈوا شیو کے بعد اپنے چہرے کو رگڑتا ہے۔ اس کے بعد باری ناشتے کی آتی جس میں ہو ایک تیر سے دو شکار کرتے یعنی پیٹ پوجا بھی کر لیتے اور اپنے جوتوں کی عمرِرفتہ لوٹا لا تے اور مصروفیات کے اس سارے رچاؤ کے باوجود سکول میں کچھ ایسی باقاعدگی سے پہنچتے کہ اس کے صحن میں ان کا پہلا قدم سکول لگنے کا اعلان سمجھا جاتا اور وہاں بھی پہنچنے کے فوراً بعد وہ پھر ننھے مُنے پودوں کی گوڈی میں ہمہ تن محو ہو جاتے۔

پودوں کی اس گوڈی کو انہوں نے اپنے یگانہ روزگار مزاج کے ہاتھوں نام بھی اپنی ہی طرز کا دے رکھا تھا جسے کنٹر پیٹ چڑھانا کہتے تھے یہ وہ لفظ تھا جو ان کی زبان پر لعابِدہن کے ساتھ ساتھ ہر آن حاضر و ناضر رہتا یہاں تک کہ ہو تے ہوتے کا اپنا نام بھی کنٹر پیٹ ہی ہو کر رہ گیا۔

موصوف کا گاؤں ان کی جائے ملازمت سے بیس پچیس میل کے فاصلے پر تھا اوروہاں پڑتا تھا جہاں ریلوے لائن جا کر دم توڑ دیتی تھی۔ ہماری نطر میں وہ خوش قسمت تھے

کہ اپنی جائے ملازمت سے براہراست کنٹیکٹڈتھے، بال بچہ وہ اپنے نجی اکاؤنٹ کے ساتھ گاؤں ہی میں رکھنے کے قائل تھے لیذا ہفتے کی شام کو اُن کا جانا عزرائیل کے آنے کے مترادف تھا جبکہ بیشتر حالات میں ہمارا قیام وہیں ہوا کرتا۔

اور کچھ دیر نہ گزرے شبِ فرقت سے کہو

دل بھی کم دُکھتا ہے وہ یاد بھی کم آتے ہیں

چنانچہ اس مرحلے پر سب سے دلچسپ بات یہ ہوئی کہ اتوار صیح معنو میں اتوار ہو کر آتا ہم صبح آٹھ نو بجے بستر سے نکلتے، خراماں خراماں بازار تک جاتے چائے کی پیالی اور دوچار سگریٹ نوش جان کرنے کے بعد دو چار دوستوں کا دروازہ کھٹکھٹاتے گھر پہنچتے اور جب دوست احباب آچکتے تو ساتھ ہی مالٹوں کے دوچار درجن بھی برآمد کر لئے جاتے اور یہ جنس اتنی احتیاط سے کھائی پی یا چوسی جاتی کہ مجال ہے، جو ایک بھی چھلکا پسِ دیوار جانے پائے بلکہ یہ سار ا مال نہایت غیر قدرتی انداز میں یہاں وہاں پھیلا دیا جاتا گویا صحن بھر میں تازہ پھلوں کا ڈڈو توڑ کر دم لیتے اس لئے کہ اس بستی میں جہاں ہم رہتے تھے دو اصطلاحیں ایسی تھیں جو نہ صرف زبانِزد عام تھیں بلکہ ان کے پس منظر میں دو مخصوص اعمال مذمومہ بھی کار فرما تھے۔

جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی

گریباں چاک کا حق ہو گیا ہے میری گردن پر

؁ ہمیں خدانے اس لعنت سے تو محفو ظ رکھا لیکن جس طرح شنید تھی وہاں یہ دونوں عمل انتقامی کاروائی کے طور پر اپنائے جاتے تھے جن میں سے ایک تو وہی ڈڈو توڑنا یا

بھنن تھا کے منقسم اپنے ہاتھوں سے تازہ قسم کی غلاظت اکٹھی کرتا اسے اپنے گھر میں ڈالتا اور رات کی تاریکی میں اپنے مخالف کے صحن میں دے مارتا اور دوسرا عمل تھا ’’آڑو اوئے آڑو‘‘ کا یہ قسم ذرا دلیرانہ انتقام کی تھی اس لئے کہ جس کسی سے انتقام لینا مقصود ہوتا چند بھاڑے کے بچوں کو اس کے پیچھیلگا دیا جاتا جو ’’آڑو اوئے آڑو ‘‘ کا ورد کرنے لگتے،یہاں تک کہ یہ آواز سن کر اس مخلوق میں مسلسل اضافہ ہوتا جاتا جو یہ آواز لگا رہی ہوتی اور وہ شخص جوان میں گھر جاتا اپنے حواس کو کہیں ہفتوں میں ہی بحال کر پاتا۔

اب ایسے ماحو لمیں ہم اگر پس و پیش کی ان خوش ادائیوں سے متاثر نہ ہوتے تو اور کیا کرتے، چنانچہ چھلکوں اور اپنے آنگن کی حد تک ہم نے بھی یہ عمل متعدد بار دہرایا اور اس غرض کو دہرایا کہ جب اگلے روز ہمارے ساتھی تشریف لاتے تو دو ایک دن ہم سے ضرور چین بجیں رہتے جس کا اور کوئی فائدہ یا نقصان تھا یا نہیں ہم پر ان کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں میں کسی قدر ڈھیل ضرور آجاتی ۔

ہمارے کنٹر پیٹ دوست کا معمول یہ تھا کہ وہ ہمیشہ سحری کی ٹرین سے واپس آیا کرتے، کہنا ان کا یہ تھا کہ بیس میل کے اس سفر کے دوران وہ اپنی گذشتہ رات سمیت ساری نیند پوری کر لیا کرتے جس پر ہم انہیں نہایت عزیز انہ انداز میں اکثر اوقات کہا کرتے کہ حضرت احتیاط لازم ہے کسی دن ایسا نہ ہو کہ آپ سوتے سوتے راولپنڈی پہنچ جائیں اور جوابدہی کی پاداش میں ہم دھر لئے جائیں جس پر وہ اپنے ہونٹوں اور پیشانی کے پٹھوں کو بیک وقت کاشن دیتے ہوئے کہتے ہیں کیا کہا؟ ہم اور سوتے سوتے راولپنڈی پہنچ جائیں۔ میاں

کہاں کی باتیں کرتے ہو، ہم نے تو جاگنے سونے کی تربیت بمباری کے سائے میں حاصل کی ہے۔ یہاں تک کہ راستہ چلتے کسی ابرِرواں کا سیہ بھی میسر آجائیتو ہم جھٹ گھڑی کے لئے نہ صرف نیند کی آغوش میں جا سکتے ہیں بلکہ وہاں سے آبھی سکتیہیں۔

ہم نے عرض کیا حضور یہ تو بجا ہے لیکن جو ہر ہفتے آپ آئندہ کے چھ دنوں کے لئے پندرہ بیس سیر آٹیکا فوجی کٹ اپنے ہمراہ لاتے ہیں، اگر ایسا ہو جائے کہ آپ محض ایک سٹیشن ہی آگے جا کر بیدار ہوں تو گناہوں کا یہ پٹارہ آپ کہاں چھوڑ کر آئیں گے، اس لئے کہ واپسی کی گاڑی تو ہمارے سکول کے انٹرول کے بعد آتی ہے، ہماری اس بات کا جواب انہوں نے وہی دیا جو ان سے مخصوص تھا…… پھر ہم……اپنے آپ ہی کو کنٹرپیٹ چڑھادیں گے۔

ہماری یہ نصیحت تو یقیناً بچگانہ تھی اور ہمیشہ ان کے سر پر سے گزر جاتی رہی لیکن ایک دن ایسا بھی آیا کہ موصوف؎

یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا

ایک نہیں بلکہ دو سٹیشن آگیچل کر بیدار ہوئے۔ درآں حالیکہ پورا ایک من آٹا بھی ان کے زیب دوش تھا۔

گاڑی چونکہ سحری کے وقت آیا کرتی تھی لہذا اوار کی شام کو ہم باہر کا دروازہ کھلا ہی چھوڑ دیا کرتے اپنے کمرے کو مقفل کر کے دوسرے کمریسے اندر آجاتے اور چابی ایک مخصوص جگہ پر ٹکا دیتے جس کا فائدہ یہ ہوتا کہ جب ہم صبح بیدار ہوتے تو کنٹرپیٹ بھائی اپنے

معمولات میں سرتا پا غرق نظر آتے۔

اس دن ہم اٹھے تو کچھ کچھ سحرزدہ تھے اس لئے کہ رات ہی سے موسم کی طبیعت ذرا مچلی ہوئی تھی اور بوندیں موسمی کونجوں کی طرح ایک گنگناہٹ کے ساتھ برابر پڑ رہی تھیں چنانچہ سحری کے دوران ہمارے کمرے میں کوئی ہل چل نہیں مچی تھی لہذا طے تھا کہ استاد کی جان پر ضرور کچھ بن آئی ہے جس پر ہمیں ایک خیال تو کنٹرپیٹ بھائی کی روایتی نیند کا بھی آیا لیکن چونکہ موصوف نے جاتی دفعہ اپنے گھر میں بیماری کا تذکرہ بھی کیا تھا لہذا ہمیں فکر ہونے لگی کہ خدا خیر کرے کہیں صورتِ حال زیادہ خراب نہ ہو گئی ہو۔ تاہم ہمیں اس بات کا یقین تھا کہ استاد اپنی چھٹی وغیرہ کی درخواست ضرور بھجوا دیں گے۔ ہم نے ناشتہ کیا کپڑے بدلے اور سکول کو چل دئیے لیکن ابھی گھر سینکلیہی ہوں گے کہ سامنے سے استاد مکرم پانی اور کیچ می ں لت پت کندھے پر ایک من کا توڑا اٹھائے ہمیں اپنی جانب بڑھتے دکھائی دئیے اور یُوں ہوا جیسے کسی ٹیکسی یا کار کیہارن کی تار شاٹ ہو جاتی ہے، ہماری ہنسی کا کنکشن بھی کسی ایسی ہی جگہ پھنس کر رہ گیا تھا، زیر لب کچھ کچھ بڑبڑاتے ہمارے قریب سے گزرتے تو ہمیں واپس ڈیرے پر آنے کا اشارہ کیا ہم ان کے ساتھ تو ہو لئے لیکن جب کمرے میں پہنچے اور ان کے دوش مبارک سے توڑا اتروایا تو وہ ایک من کی بجائے ایک ٹن کا لگا کہ توڑے کا وڑا اس لئے کسی بھٹیارن کی تاؤن بنا ہواتھا کہ موصوف نے سٹیشن پر اترتے ہی اپنی گردش ایام کو پیچھے کی طرف دوڑا دیا تھا۔ اور وہ بھی الف یا پیادہ اس مفاست میں بارش ان کا اپنا تو کچھ نہ بگاڑ سکی لیکنبارش کی کارستانی سے آٹے نے خشک سے تر ہونے کاجو مرحلہ طے کیا تھا اس مرحلے کو پایۂ اختتام

تک پہنچانے کے لئے استاد کنٹرپیٹ ایک دن اور ایک رات تک مسلسل روٹیاں پکاتیرہے جو اپنے اہل محلہ کے علاوہ ہمیں بھی آئندہ ہفتہ بھر دانتوں سے توڑ توڑ کر کھانی پڑیں۔

ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s