پھر اُس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی

کچھ دن کانجی ہاؤس میں بالفعل بند رہنے اور کڑھی جیسے چارہ نما سالن سے سیر ہو چکنے کے بعد ہمارے دل میں قیدیوں کے جیل سے فرار ہونے جیسا احساس پیدا ہوا تو ہم نے اپنے ساتھی سے بالا بالا مکان کی تلاش شروع کر دی جس کے ابتدائی مراحل ہی میں ہمیں ایک بہت بڑی حویلی دکھائی دی جس کے بلند و بالا بیرونی دروازے سے صاف ظاہر تھا کہ ہو نہ ہو مکان کسی شتربان نے بنوایا ہو گا۔ جو حالات کی ستم ظریفی کے سبب خالی پڑا ہے لیکن ہمارا یہ واہمہ محض کانجی ہاؤس میں بند رہنے کے سبب تھا کہ اب جس عمارت پر بھی نظر پڑتی، ساون کے اندھے کو ہرا ہی ہرا نظر آتا۔ یعنی اس پر جانوروں کی سکونت کا شک گزرتا۔ ورنہ وہ مکان جسے ہم نے دریافت کیا تھا کسی مذہبی گھرانے کا ٹھکانہ بلکہ آستانہ تھا، جو مدّتِ مدید سے گاؤں چھوڑ کر تلاشِ روزگار میں کہیں دور جا کر مقیم ہو چکے تھے۔ لیکن جب مکان کے ظواہر سے ہٹ کر اس کے اندر جھانک کر دیکھا تو پتہ چلا کہ مکان کلیتہً خالی نہیں بلکہ جزوی طور پر کرائے پر بھی چڑھا ہوا ہے۔ اور یہ کہ مکان کے ایک حصے میں گاؤں کاپوسٹ مین ماضی کی سہانی یادوں اور’ اَن ڈِیلیورڈ‘ ڈاک سمیت یکا و تنہا رہ رہا ہے اور یہ کہ ہمیں اگر مکان کی جستجو ہے تو موصوف کو ایک عدد ساتھی یا سامع (یہ بات ہم پر بعد میں کھلی) درکار ہے جو اُن کی خاموشیوں اور کرائے کے پیسوں ہر دو میں تخفیف کا سبب بن سکے۔

یہ معلومات حاصل کر چکنے کے بعد دوسرے ہی دن جب موصوف اپنی بِیٹ پر سکول میں تشریف لائے تو ہم نے انہیں تخلیے میں لے جا کر اپنے دل کے مدعا سے بالاہتمام آگاہ کیا جسے انہوں نے کسی مطلقہ عورت کو دعوتِنکاح کے مترادف جانا۔ یعنی بقولِ غالب

آنکھ کی تصویر ‘ سرنامے پہ کھینچی ہے کہ تا

تجھ پہ کھل جائے کہ اس کو حسرت دیدار ہے

اور ہمیں اسی شام بغیر کسی تاخیر کے انتقالِ مکانی کا مژدہ سنا کر چل دئیے اور ہم اُسی شام اپنے مختصر سے سامان کے ساتھ جسے درمیان میں پڑنے والے ایک اتوار کو ہم اپنے گھرسے اٹھا لائے تھے پوسٹ مین مذکورہ کی حویلی میں منتقل ہو گئے۔

موصوف…… رنگ اور ہٹ کے سخت پکے تھے اور باتوں کی یک طرفہ ٹریفک کے تہِدل سے قائل کہ جب کبھی (بلکہ ہمہ وقتی کہییٔ) اپنی ہانکنے پر آتے تو کسی مشّاق مبلّغ کا لاؤڈ سپیکر ہی کیوں نہ ان کے سامنے رکھ دیا جاتا۔ مجال ہے جو ان کی آواز پر غالب آسکتا۔ ان کی آواز کی پاٹداری اور معاملاتِاین او آں میں اُن کی ہٹ دھرمی اگرچہ ہمارے لئے اس امر کا ایک کُھلا چیلنج تھا کہ اگر ہم اُن کے ساتھ رہے تو ہمارے اعصاب کا بچا کھچارس بھی یقیناً نچڑ جائے گا۔ لیکن ہمارے سامنے مسئلہ اُس وقت انتخاب کا نہ تھا بلکہ اجتناب کا تھا یعنی کانجی ہاؤس سے اجتناب کا اسی لئے تو ہم نے عواقب کی پرواہ کئے بغیر اُن کی دعوت قبول کر لی۔

موصوف کا تعلق یو پی کے کسی علاقے سے تھا اوراُن کی تنہائی کا عالم کچھ یُوں تھا کہ خُدا بھی…شاید ہی اِس قدر تنہاہو اگرچہ راولپنڈی میں اپنے بال بچے کی موجودگی کا ذکر انہوں نے پہلے ہی روز ہم سے کیا۔ لیکن بعد کے شواہدات سے ان کے اِس دعوے کا کوئی ثبوت ہم پر کھلنے نہ پایا اورہمیں اس سے غرض بھی کیا تھی کہ ہماری غرض تو اپنے وسائل کے اندر رہ کر ایک جائے پناہ حاصل کرنے تک تھی جس پر وہ حضرت ہمیں جھونگے میں مل گئے تھے۔

کانجی ہاؤس سے نکلے تو باقاعدہ طور پر انسانوں کے لئے تعمیر شدہ مکان میں پہلی رات کانجی ہاؤس کی پہلی رات سے بھی سو ادلچسپ ٹھہری اس لئے کہ ہمارے ہم شب نے ہانڈی چولہے پر چڑھا دی۔ توہم بھی ازروئے اعانت ان کے قریب جا بیٹھے اور مٹر کی پھلیوں کو ناقبول بے رنگ لفافوں کی طرح کھولنے لگے، اتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ موصوف نے ایک ایک کر کے پچاس سرخ مرچیں اپنی فطری خشک انگلیوں سے الگ کیں انہیں کسی خوردہ فروش کی دن بھر کی کمائی کی طرح ایک بار پھر گنا اور ایک حَجری ہاون میں ڈال کر کچھ ا س طرح رگڑنا شروع کر دیا۔ جیسے پرانے وقتوں کے کفش دوز چمڑے کوسِدھایا کرتے تھے ہم نے پہلے تو سوچا کہ سردیوں کا موسم ہے اور موصوف ہفتے بھرکا مصالحہ ایک ہی بار رگڑ لینا چاہتے ہیں جب پلیٹ بھر مٹروں میں انہوں نے ہفتہ بھر کا یہ اضافی راشن یکسر انڈیل دینا چاہا تو ہماری زبان اس ہیبت ناک بلکہ عبرت ناک منظر ہی سے سُرسُر کرنے لگی، وضعِمہمانی مانع تھی۔ لہٰذا ہم نے ان سے اس باب میں کوئی استفسار نہ کیا ویسے اندر سے ہماری حالت بقول فراز کچھ ایسی ہی تھی۔

ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز

ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا

اور سچ پوچھیں تو بہت برا کیا کہ آئندہ رات کی عاقبت ہم نے اپنے ہی ہاتھوں تباہ کر ڈالی۔ شام ہوئی تو موصوف محلے کے تنور پر گئے اور اکٹھی دس بارہ چپاتیاں لے کر پلٹے، کھری زمین پر خوانِنعمت چنا اور ہمیں شریکِ مائدہ کر کے اگلے دن کے لئے نمویابی کے شغل میں جُٹ گئے۔ ’’ہم نے…… کہ مدتوں نِکالَون کھاتے رہنے کے بعد ’’وڈاّلَون‘‘کھانے کا شرف پہلی بار حاصل کر رہے تھے پہلا نوالہ ہی زبان پر رکھا تو یوں لگا جیسے ہمارا جبڑا بھولُو برادران میں سے کسی ایک کی زد میں ہے یکبارگی خدا یاد آیا لیکن اس سمے خدا کا بالفعل ہماری مدد کو پہنچنا بعید ازقیاس تھا کہ میزبان اپنی ڈوئی سمیت خوانِ نعمت کے رِنگ کے ہر نوالے پر ہمیں للکار رہے تھے۔

دھمکی میں مر گیا جو نہ باب نبرد تھا

سو جو کچھ ہمارے حصہ میں آچکا تھا اسے طوعاً و کرہاً بوجوہ زیر حلقوم کرناپڑا، اور ……

پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی

اس غیر متوقع حادثے سے ہمارے تن بدن کے جو جو حصے فوری طور پر متاثر ہوئے وہ تعداد میں چار تھے یعنی ناک زبان کان اور معدہ ناک کہ گزرگاہِخشک و تر تھی ایک انجانے سیلاب کا مرجع دکھائی دے رہی تھی، کان قوّتِ سماعت کو یکبارگی اگل دینے پر تُلے ہوئے تھے، زبان کو جیسے بچپن کی ساری چغلیوں کا خمیازہ درپیش تھا کچھ اس طرح کلبلا رہی تھی جیسے کوئی سانپ چھڑی کی نوک تلے دب کر کسی منچلے کے ہتھے چڑھ گیا ہو اور مسلسل پھنکا رہا ہو اورمعدے بیچارے کا یہ عالم کہ جیسے گرم تنور میں کوئی پانی کے چھینٹے دے رہا اور یہ چھینٹے اُس تازہ ہوا کے تھے جو خدا جانے ناک سے کن حالات میں ہمارے پھیپھڑوں اور ہمارے معدے کی راہ پا رہی تھی ان غیر مرئی زخموں کی تاب نہ لا کر ہم نے اُس شبِ سیاہ کی سحر کیسے کی۔ اس کا کچھ ادراک انہیں ہو تو ہو ہمیں رات بھر اس امر کی سدھ نہ تھی۔

ہم نے جوں توں کر کے اس رات کی سحرتو کر لی لیکن آنے والی شام بھی ۔۔۔ اگر اتنی ہی سہانی تھی جتنی کہ شامِ گذشتہ تو ہمارے باقی ماندہ دَلدّر ازخود ہی دھل جانے کو تھے اور ہم نہیں چاہتے تھے کہ اگر فتورِاعصاب کا روگ سہیڑنے میں ہمیں اتنے برس لگے تھے تو یہ فتور ایک یا دو شاموں کے بیچوں بیچ ہی ہم سے یکا یک بچھڑ جاتا۔ اورجاتی دفعہ دروازے کی کنڈی تک بھی نہ ہلانے پاتا۔ چنانچہ ہم نے نئے مکان میں اپنے قیام کی بقا کا ایک ہی حل تلاش کیا اور وہ تھا چُلھے چوکے کی حد تک اپنے ہم اطاق سے علٰیحدگی سو اُس ون یونٹ کے ٹوٹنے کے فوراً بعد اگلی شام ہم اپنے نو خریدہ سازورخت کے ساتھ بکفچۂ خویش ہانڈی پکانے میں سرتاپا غرق تھے ۔اور پھر اسی طرح جانے کتنی شامیں یونہی غرق رہے۔

ہم جس مکان سے اپنی ہم نفسی کا رشتہ جوڑ چکے تھے اس کا ایک جڑواں بھائی اور بھی تھا،اندر کا حال تو خدا ہی کو مُعلوم تھالیکن باہر کے دروازے جو بہرحال دونوں مکانوں کے چہرے مہرے تھے ایک دوسرے سے اتنے مشابہ تھے کہ اتنی مشابہت بعد میں ہمیں اپنے احباب اصغرنیازی اور اجمل نیازی میں بھی نظر نہ آئی جن سے ابتدائی تعارف کے دوران ہم ایک بھائی کے حصے کی گفتگو دوسرے سے اور دوسرے کے حصے کی گفتگو پہلے بھائی سے کرتے ہُوئے اکثر ٹوک دئے جاتے رہے ۔

ایک دِن دوپہر کو خدا جانے ہمیں کیا سوجھی۔ سکول سے چھٹی تھی اور گھر میں بیٹھے بیٹھے جی اکتانے سا لگا تو ہم نے بیرونِ دیہہ ملحقہ کُھدر کا رُخ کیا، وہاں پہنچے تو ہُو حق کے عالم میں فاختاؤں کے نغموں اورپُھلاہیوں کی دَرُشت شاخوں سے گزرتی نرم ہوا کی شاں شاں سے کچھ ایسے سیرگوش ہوئے کہ ہماری تخلیقی حس کئی دنوں تک نمک مرچ کے ذائقوں میں ملوث رہنے کے بعد جیسے ’’اچن اچان‘‘ بیدار ہو گئی اور اُس نے ہمیں کچھ اس طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا کہ ہم گھر لو ٹے تو اپنی تخلیق کا سحر پوُری طرح ہمیں اپنی گرفت میں لئے ہوئے تھا اور اس سحر نے اپنا کرشمہ یوں دکھایا کہ جس کمرے میں دو چارپائیاں اور ایک ایک بستر بچھا تھا اور با قی کمرہ بھوکے ہاتھی کے معدے کی طرح ابوالہول بنا رہتا تھا۔ وہاں چار پانچ چارپائیاں بڑے سلیقے اور قرینے سے بچھی دیکھیں، سامنے کی دیوارکوری بُسی ہونے کی بجائے رنگارنگ رکابیوں، ٹریئوں، موتیوں کی لڑیوں اور آویزاں کا غذی گلدستوں سے سجی ہوئی تھی۔ کمرے کا فرش جسے تازہ مٹی سے لیپاپوچا گیا تھا،…بھینی بھینی مہک سے دُکانِ عطارکو بھی مات کر رہا تھا اور ہم نے کہ عالمِخواب ۔۔۔۔۔اور تخلیقِشعر کی کیفیت میں سراسرمحوتھے اُس کمرے کے حسن و زیبائش کو بھی اسی عالم کا ایک حصہ تصور کیا اوربڑے استغراق سے ایک چارپائی پرنیم دراز ہو کر اپنی نوواردغزل کے اُن اشعارکو پچکارنا شروع کردیا جوابھی معرض وجود میں نہیںآپائے تھے۔ لیکن یکا یک کمرے کا دروازہ، روزنِ فردوس کی صورت اختیار کرنے لگا۔ سمندر سے اُٹھنے والی بے قابو لہر تھی یا کسی دائرے میں کِھلے پھولوں کے درمیان سے خوشبو کا اٹھتاہوا ہُلہ،کہکشاں سمٹ کر زمین پر اُتر آئی تھی یا موسمِ بہار کی رانی قبل ازوقت عالمِ خواب سے عالمِ بیداری میں ہمارے سامنے آکھڑی ہوئی تھی۔ ہماری نگاہ میں یہ سارے منظر ایک ہی لمحے، ایک ہی پیکر کی صورت میں لہرا گئے اور جب ہم نے

کھول آنکھ، زمیں دیکھ فلک دیکھ، فضا دیکھ

کو اپنے اوپرمنطبق کیا تو منظر کچھ اور ہی تھا۔ ہمارے کانوں میں ایک غزالِ رعنا کی شیرینٔی ٔآواز خدا جانے کس قبیل کا رس گھول رہی تھی۔

’’ماسٹر جی! خیریت تو ہے، یہاں سے چلتے بنیے اس لئے کہ مجھے آپ سے ہمدردی ہے۔ گھر والی تنور پہ گئی ہے اور بس آتی ہی ہو گی، چلیے چلیے اٹھیے اور ہاں! یاد رکھیے آ پ کا دل ایسا ہی بے قابو ہے تو اسے کچھ آداب بھی سکھائیے۔‘‘

اُس صنفِمخالف کا سلسلۂ کلام جاری تھی لیکن ہمیں تو ایک انجانے خوف نے جیسے سوڈے کی بوتل کے کارک کی طرح اس خواب ناک ماحول سے دھول اڑاتی گلی کے حلق میں دے مارا، اور جب حواس کچھ بجا ہوئے تو ہمارے مکان کا نکھٹو دروازہ…… ہمیں اسی دروازے کے پہلو سے پھوٹتا دکھائی دیا جس میں ہم یُوں سما گئے تھے جیسے کوئی بیج کھیت کی خاک کا لقمہ بن جاتا ہے۔

غالب نے جو کچھ کہا شاید ہمارے لیے ہی کہا تھا۔

ہم وہاں ہیں جہا ں سے ہم کو بھی

کچھ ہماری خبر نہیں آتی

ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s