دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں

ہر ہفتے دی شام‘ نوں دِسّے منہ اتوار دا

جِنج بِن چٹھیوں ڈاکیہ ہسے پیار جتائے کے

یہ شعر اگرچہ ہم نے بہت بعد میں کہا لیکن اس کے الفاظ اور ہماری سابقہ مذکور جائے رہائش کے تیور آپس میں بہت ملتے جلتے تھے۔ لہٰذا اگر اس شعر کے ناطے آپ کا خیال ہمارے ہم اطاق دوست ڈاکیے کی جانب چلا گیا ہو تو بالکل صحیح سمت کو گیا ہے ہم نے گزشتہ سطور میں جس سکونتی علیٰحدگی کا حوالہ دیا تھا وہ علیٰحدگی بالآخر عمل میںآگئی یہ نہیں کہ ہمارے وہ دوست مکان چھوڑ کر چلے گئے بلکہ ہمیں نے اپنا آشیانہ سطحِ زمین سے دس بارہ فٹ کی بلندی پر جا تلاش کیا یعنی فرشِ خاکی سے ایک چوبارے میں منتقل ہو گئے۔ جو بازار کے بائیں بازوکی دوکانوں پر کچھ اِس اندازسے تعمیر کیا گیا تھا جیسے سرحدوں پر ’’اوپی‘‘ کی چوکی تعمیر کی جاتی ہے، چوبارہ اپنے جغرافیائی اور سماجی حدود اربعہ کے باعث تو خالصتاً منفرد تھا ہی کہ پھیپھڑوں کے علاوہ قلب و جگر کو بھی تازہ ہوا مہّیا کرنے کے خاصے اسباب اپنے اندر رکھتاتھا لیکن چوبارے تک پہنچنے کے لئے جو سیڑھیاں قطب نمائی کرتی تھیں وہ شادی کے کسی ادارے کے قواعد جیسی تھیں کہ اکثر بھول بھّلیوں میں مبتلا کر دیتیں، تاہم وہ جو کہتے ہیں۔

ہر گلے را خار باشد ہم نشیں

سیڑھیوں کی پیچیدگی چوبارے تک پہنچنے میں ہمارے لئے کبھی سدّراہ نہ ہو سکی کہ ہمیں تو ایک کشادہ منظر اور صاف ستھری آب و ہوا والے مکان کی جستجو تھی اور یہ خوبیاں موصوف میں بدرجۂ اتم موجود تھیں کہ اگرچہ بقامت کہتر تھا لیکن بقیمت بہتر‘ اس لئے کہ ہماری تنخواہ کے ناپ پر پورا اترتا تھا یعنی اس کا کرایہ نہیں تھا، چوبارہ کی تعمیر میں وہی بنیادی جذبہ کارفرما تھا جس کا ذکر ہم نے پہلے کیا ہے کہ اس سے مقصود بازار بھر کی نگہداری کے فرائض کی بہ طریقِ احسن تکمیل تھی۔ لہٰذا جس دن سے یہ چوبارہ محکمۂ تعلیم کے سپرد ہوا تھا اور یہ وہاں ہمارے منتقل ہونے سے پہلے کا قصّہ ہے، صاحبِدکان نے (کہ چوبارہ اسی کی دوکان پر بنا تھا) دکان کے چوکیدار کو چھٹی د ے رکھی تھی اور چوبارے کے مقیموں کا وہاں رہنا دوکان کے بیمہ کا پیشگی پریمیم تصور ہوتا تھا، اسی لئے کرائے جیسی علّت سے پاک تھا اس کے علاوہ اس کی ایک افادیت اور بھی تھی…… کہ بازار چوبارے کی عین بغل میں پڑتا تھا۔گویا

دل کے آئینے میں ہے تصویرِ یار

جب ذرا گردن جھکائی۔۔۔ دیکھ لی

جہاں سے نہ صرف دودھ چائے اور لسی جیسے مشروبات منگوائے جا سکتے تھے بلکہ اسی نواح میں ایک دو جزوقتی ہوٹل ایسے بھی تھے جن کے مالکان خاندانی بنیادوں پر اپنے خریداروں کو وقتاً فوقتاً نان نفقہ بھی مہیّاکر دیتے مراد یہ کہ جو ’’ِمسّا اَلُونا‘‘ گھرمیں پکتا… خریدار بھی اس میں شریک ہو جایا کرتے۔

ہم نے وہ چوبارہ اپنی نویکلی رہائش کے لئے نہیں ہتھیایا تھا کہ تنہائی وہ واحد مرحلہ ہے جسے ہم نے سر ے سے بعدِ از مرگ مراحل میں شامل رکھا ہے اس لئے کہ

نیند پھر رات بھر نہیں آتی

لہٰذا یہ تیسری خوبی تھی جو اِس خوش اطوار میں پہلے ہی سے پائی جاتی تھی کہ اب کے ہمارا ہم اطاق ساتھی ہر طرح سے ہماری اس دیرینہ خواہش پر پورا اترتا تھا، کہ ہمدم ہو تو ایسا ہو جو نہ صرف ہم رزق بلکہ ہم اوقات بھی ہو کہ گھر لوٹیں توایک ساتھ پہنچیں اور کہیں جائیں تو ایک ساتھ ہی رخصت ہوں اور ہمارا یہ مدّعا بہر اعتبار پورا ہو چکا تھا۔

جہاں تک چوبارے کی اپنی نیّت کا تعلق تھا اس نے یوں تو ہمارے ساتھ وہی سلوک روا رکھا جیسا سلوک کسی مشرقی ملک کے عوام اپنے رہنماؤں کے حق میں روا رکھتے ہیں کہ برسوں تک احتساب کی راہ کا نام تک نہیں لیتے تاہم ایک رات اس کا مزاج ضرور بگڑا اور ایسا بگڑا کہ خدا کی پناہ۔

ہوا یوں کہ موسمِسرما کی ایک رات تھی جسے ردائے ابر نے کسی معصوم بچے کی طرح چاروں جانب سے ڈھانپ رکھا تھا اور قامتِ شب پر بوندیں اتنی تیزی مگر کم جسامتی سے پڑ رہی تھیں جیسے حجام شیو کرنے کے بعد گاہک کے چہرے پر اپنی بوتل کی کمان سے پھوہار چھوڑتا ہے یہ صورت کچھ اسی ایک شب پر حاوی نہ تھی بلکہ پچھلے تین روز سے بادلوں نے جیسے فرمائشی جلوس نکال رکھے تھے البتہ اس رات موسم کی طبیعت کچھ زیادہ ہی رواں نظر آتی تھا یعنی کوئی کوئی بوند چھت پر یوں بھی آن گرتی جیسے کسی بچے کا جھنجنا کسی بڑے کے گھٹنوں سے آن ٹکراتا ہے بلکہ یوں کہیے کہ جلترنگ کی ساری سریں ایک ایک کر کے بیدار ہو رہی تھیں۔ رات کی سیاہی بڑھی تو ہماری آنکھوں کی روشنی بھی ماند پڑنے لگی چنانچہ حسبِ معمول اپنے ہمدم کے ساتھ روزمرہ گفت گو کا کوٹہ پورا ہونے سے پہلے ہی ہم نیند کی آغوش میں جا پڑے۔

چوبارے میں ہماری ہماری چارپائی شمالاً جنوباً تھی اور دروازے کے عین مطابق بچھی تھی جبکہ دوسرے صاحب شرقاً غرباً دراز تھے، سکندر کی نیند اگرچہ ہماری نیند سے مختلف تھی لیکن سوتے میں ہم کچھ طبعی طور پر ہی سکندر کی طرح اپنے ہاتھ پاؤں مع چہرہ بستر سے باہر نکال کر رکھنے کے عادی ہیں اور حسبِعادت اس شب بھی اسی طرح محوِخواب تھے۔

نصف رات کا عمل ہو گا یا اس سے کچھ کم، ہمیں یکایک کچھ یوں لگا جیسے ہماری داہنی آنکھ کا سارا نور بہنے کو ہے۔ ہم بلبلا کر اٹھّے کہ یہ کارستانی کسی خوابِ بد کی بھی ہو سکتی تھی، لیکن جب آنکھ کے علاوہ اپنے چہرے کو بھی نم آلود پایا تو ہم پر کھلا یہ کہ ہماری آنکھ کا نوراز خود بہنے پر آمادہ نہ تھا بلکہ یہ کارروائی خارج سے آنکھ کی اندرونی دنیا پر وارد ہوئی تھی اور برسوں کی دُود آلود چھت کے عرقِ انفعال نے ٹپک کر ہماری آنکھ کی راہ لے رکھی تھی اور جس قطرے نے ہماری آنکھ کے درواکر دئیے تھے وہ اپنی نوعیت کا تیسرا یا چوتھا قطرہ تھا جس کی گواہی ہمارے چہرے کا غیرمتاثرہ حصہ دے رہا تھا لیکن وہ تین یا چار قطرے جو ہماری آنکھ میں اٹک کر رہ گئے تھے انہو ں نے تو ہمیں کچھ ایسا چکرا دیا کہ ہمارے منہ پر غزل کے وہی لغوی معنی چکرانے لگے جن کا تعلق ہرن برادری سے بتایا جاتا ہے۔

ہماری قوتِبرداشت نے ہمارا کچھ کچھ ساتھ دینا شروع کیا۔ تو ہم نے چھت کی طبیعت کو مائل بہ کرم دیکھ کر خود ہی اس راہ سے ہٹ جانا مناسب سمجھا۔ اور اپنی چارپائی اپنے ساتھی کی چارپائی کے عین متوازی بچھا لی لیکن اس احساسِ تعصب سے یکسر مغلوب ہو کر کہ یہ صاحب ابھی کیوں محوِ استراحت ہیں لہٰذا اگر کچھ ہو تو ہمارے بھاگوں یہ بھی متأثر ہوئے بغیر نہ رہیں چنانچہ اِس دعائے شر اور بحالیٔ چشم کے کچھ دیر بعد ہم دوبارہ سو گئے مگر جب دوبارہ آنکھ کھلی تو ابتداً یوں لگا جیسے ہماری ناف نے پیدائش کے برسوں بعد ازِسرنو رِسنا شروع کر دیاہے۔ اور نمی کی یلغار نواحی علاقوں کو بھی یکساں اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے رضائی سے ہاتھ باہر نکال کر پھیرا تو

قطرہ قطرہ بہم شود تالاب

میں جا پڑا، اب کے ہم نے بستر سے اچھلنے کی بجائے کھسک کر نکلنے کو ترجیح دی اور اسی دعائے شر کے زیرِاثر جو پہلی بیداری کے دوران ہم نے مانگی تھی چپکے سے چوبارے میں نصب پڑچھتی کے نیچے ہولئے تاکہ دعا کی مستجابی پر اگر وہ صاحب بھی پانی کی زد میں آئیں تو ان کے لئے کوئی جائے پناہ باقی نہ ہو، مناسب وقت پر پڑچھتی کے نیچے ہو لینے سے ہمیں کہیں پہلے سے زیادہ تحفظ کا احساس ہوا تو نیند دبے پاؤں نہیں بلکہ بجتے کھنکتے قدموں آئی اور ہمیں دوبارہ بلکہ سہ بارہ اپنے ساتھ بہا لے گئی لیکن اب کے ہمارے اور پانی کے درمیان چومکھی جنگ کا آغاز ہوا یعنی چھت در چھت ٹپکنے والے پانی نے ہم پر چوطرفہ حملہ کر دیا۔ اور یہ حملہ بوندوں یا قطروں کی صورت میں نہیں بلکہ تیز و تند دھاروں کی صورت میں ہوا جن میں سے پہلی دھار ہمارے منہ پر دوسری دل و جگر کے نواح میں اوراسی طرح تیسری اور چوتھی بالترتیب پیروں تک کو اپنا نشانہ بنا کر کچھ ایسے زوروں اور تسلسل سے پڑنے لگیں کہ ہماری آنکھ کے کھلتے کھلتے فمِمعدہ مِٹھ کڑوے پلستر سے لِپ چکا تھا چنانچہ اب کے بعد از بیداری اپنے اندر کے ہیجان سے یوں لگا جیسے ہمارے پھٹ پڑنے میں بس تھوڑی ہی کسر باقی ہے۔

یونہی گر روتا رہا، غالب تو اے اہلِجہاں!

دیکھنا ان بستیوں کو تم۔۔ کہ ویراں ہو گئیں

تاہم اس کہرام میں بھی ہمیں مسرت کی ایک کرن ضرور جھلکتی دکھائی دی…کہ ہماری پہروں پہلے کی دُعائے شر، خیر سے اب مستجاب ہو چکی تھی اور ہمارے ساتھی کی چارپائی بھی اپنی جگہ سے ہجرت کر کے دروازے کی بغل میں جا پہنچی تھی، نہ صرف یہ بلکہ آنجناب بستر میں بھیگے کوّے کی طرح اکڑوں بیٹھے ،

چھینک پر چھینک ماررہے تھے،

ہم نے اپنا مضروب گلا کھنکارا …تو ہماری صدائے مجروح سے انہیں بھی کچھ سکون سا محسوس ہوا، جوابًا آنکھوں کو ملتے اور’’ اُتھو‘‘ کوفرو کرتے ہوئے کہنے لگے’’چھت کا پانی ناک میں گھس گیا ہے بوکھلا کر اُٹھا اُوپر دیکھا تو آنکھوں نے بھی اپنی برات پالی، آپ کہیے آپ پر کیا گزری۔ ‘‘

جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شب ہجراں

ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے

ہم نے انہیں یہ تو نہ کہا تاہم جو کُچھ ہم پر گزر چکی تھی وہ ہرگز وہ نہ تھی جو ان پر گزری تھی لہٰذا بات جب اپنے منہ میاں مٹھو بننے کے برعکس کھلتی دکھائی دی تو ہم نے کسی تفصیل میں جانا منا سب نہ سمجھا اور جہاں اپنے آپ کو بستر بدرکیا وہاں انہیں بھی یہی ترکیبِعافیت سُجھائی، چارپائیوں کو کروٹوں کے بل لٹایا اور بستروں کواُن کے کندھوں پر جمادیا۔

بستر لپیٹ کر ہم اُٹھ جائیں رہ سے اس کی

مقصد نہیں تھا شاید ایسا تو ‘ مُّدعی کا

اور دونو’’جی‘‘ چوبارے کے کونے میں بنے کُھرے پرپہنچ کر جیسے اٹک سے گئے، جہاں ہم نے کتابوں کا سٹینڈبنایا اس پر لالٹین روشن کی اور تاش کے پتے لے کر چوکڑی جما دی تاآنکہ صبح ہو گئی

ایک رات تو گزر چکی تھی، مگر وہ رات ۔۔۔۔ جو دس گھنٹوں کے بعد پھر اسی طمطراق سے آنے والی تھی اس کی راہ میں ہم کون سا ڈیم بناتے یہ فکر ہمیں اس لئے لگی رہی کہ بادل کسی بیمے کے ایجنٹ کی طرح جانے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ لہٰذا چھت کی لپائی کی بجائے کہ بالفعل ناممکن تھی ہم نے اپنے غنچے کو پکارا۔ (ہماری مراد عاشق محمد خان سے ہے‘ قلم سنبھالا اور سودا کی روح سے رابطہ قائم کر کے ایک عدد قصیدہ ہجویہ درمدح آستانہ ٔعالیہ رقم کیابازار سے ایک بڑا سا کورا تعویذ منگوایا، نَے سے تراشے قلم کے ساتھ جلی حروف میں قصیدے کی کتابت کی اور اسے چوبارے کے حلقوم میں آویزاں کر دیا اور جب اگلی رات آئی تو ہمارے تعجب کی انتہا نہ تھی اس لئے کہ موسم کی تمام تر نادانی و شرپسندی کے باوصف ‘ہم‘ ہمارے بستر ہمارے خواب اور جانے کیا کیا کچھ اور ۔۔۔۔سارا کُچھ پانی کی دسترس سے یکسر باہر تھا، تب ہمیں یقین آیا کہ تعویذ گنڈے کا کاروبار بھی یقینا برحق ہے اور وہ جو کہتے ہیں ؎

قولِ مرداں جان دارد

وہ بھی کُچھ ایسا غلط نہیں ہے۔

ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s