بُو قلمونیاں ۔۔۔۔۔ نشیب و فراز کی

سکول کے پہلے ہیڈ ماسٹر تو جا ہی چکے تھے، نئے ہیڈ ماسٹر صاحب کا مزاج بھی دو دھاری تلوار سے کم نہ نکلا کہ موصوف جس قدر خاموش تھے بباطن اتنے ہی پُرجوش تھے ۔ انہیں جس قدر اپنی چوطرفہ پھیلتی چال، شمالاً نکلتی قامت ، افقاً لپکتی نگاہوں اور رنگت کے گوراپے بلکہ سر خاپے کا زُعم تھا اس سے کہیں زیادہ اپنی عقاب چشمی اور سحاب طبعی پر ناز تھا کہ جس پر مہربان ہوئے مہربان تر ہوتے گئے اور جس سے بگڑے، بگاڑ کی انتہا کو پہنچ گئے۔

موصوف کی طبعیت کی بّراقی اور طُرّے کی طمطراقی کُچھ اتنی موثٔر ثابت ہوئی کہ فضائے مدرسے کی ساری مخلوق ایک بار تو جیسے اُن کی پہلے ہی روز کی آمد سے سہم کا شکار ہو گئی اس لئے کہ انہوں نے جوبلّی پہلے ہی دن ماری وہ ان کے سر براہانہ مستقبل کو ہمہ وقتی تابناک کرنے کے لئے کافی سے زیادہ تھی اور یہ کرشمہ محض ان کی پہلی ملاقات کے اندازِ مصافحہ میں پنہاں تھا کہ چھوٹتے ہی انہوں نے جس کِہ و مِہ سے بھی ہاتھ ملایا۔ بس یوں جانیے کہ اسلام کو بّر صغیر کے برہمنی دور میں لے جاتے رہے۔ موصوف اپنی دو انگلیوں کا لقمہ اپنی جانب بڑھنے والے ہر محتاج ہاتھ میں تھماتے گئے اور جب سارے افرادِ عملہ بھگت چُکے تو باوجود سرتاپا کالا باغی لباس میں ملبوس ہونے کے انتہائی دساوری انداز میں اپنی مسند شاہانہ پر جا بیٹھے۔

ہمیں اُن کے اس اندازِدلبرانہ پر پیار آیا، غصہ آیا، یا رونا، ہمیں یہ تو یاد نہیں پڑتا، البتہ اتنا یاد ہے کہ جب انہوں نے قدرے توقّف کے بعد سگریٹ سلگایا تو ۔۔۔۔اس بے زبان سے بھی مذکورہ مصافحے والا سلوک ہی کیا، سگریٹ کو آگ دکھائی، انگشتِ شہادت اور درمیانی انگلی میں اسے پیوست کیا، اور مٹھی اور ہونٹوں کی واشلوں کے اتصال سے دھوئیں کو اندر لے لے جاتے اور باہر نکالتے رہے۔

اس دقیق منظر کا احساس اور کسی ناظر کو ہوا نہ ہوا، ہمیں ضرور ہوا۔ اسے ہماری زود حسی کہئے، یا عالمِنَو عمری کہ ہماری قوتِ مشاہدہ ہمیں ہر آن ایسی ہی تاویلات میں لگائے رکھتی تھی، چنانچہ اس سمے بھی نیوٹن کی طرح ہم نے موصوف کی اس طُرفہ اندازِسگریٹ نوشی سے نتیجہ یہی اخذ کیا کہ موصوف ابنائے آدم ہی سے نہیں اپنے مشروبات و ماکولات کی درمیانی نسل سے بھی وہی برتاؤ موزوں سمجھتے ہیں، جو اُن کی بقائے مُسرت کا ضامن ہو سکتا ہے۔ اور یہ دلیل ہے اس امر کی کہ رفقائے کار سے اُن کا کُچھ دیر پہلے کا اندازِ دلبرانہ کُچھ ایسا محلِ نظر نہیں ہے۔

سکول کا ماحول بدلتا گیا۔دن گزرتے گئے اور ہم تعمیرِ مُستقبل کے منصوبوں میں سرتاپا غرق اپنے فرائضِمنصبی بکمال احتیاط و تندہی ادا کرتے رہے لیکن اس احتیاط ورزی میں ہمارا ایک تعلیمی سال ضائع ہو گیا قصّہ یہ تھا کہ ہم محض نان نفقہ کی فکر میں حلقۂ تدریس میں شامل نہیں ہوئے تھے ، بلکہ ہمارا یہ فیصلہ اپنے درس کی تکمیل کے لئے بھی تھا ۔اور اس درس کی تکمیل کے مراحل بڑے ہی کڑے تھے اور یہ تھے کہ ہمیں بی اے کا داخلہ بھیجنے کے لئے اپنے مربّیانہ سسرال یعنی محکمے سے باقاعدہ اجازت حاصل کرنا تھی جس کے لئے ہم نے

لب تمہارے ہیں شفا بخش ولی ہے بیمار

حیف صد حیف کہ اس وقت میں درماں نہ کرو

اپنی درخواست اپنے ہمہ وقتی دستیاب لیکن کم آمیز رئیسِمدرسہ کو پیش کی تو اس پر غور قوائد وضوابط کی روشنی میں شروع ہوا۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چونکہ سکول کے ایک دو معمّر اور صاحبِ اولادمدّرس بھی کسی امتحان میں بیٹھ رہے تھے لہٰذا ہم کنواروں کی درخواست اجازت برائے امتحان ایک سال تاخیر کی خوشخبری کے ساتھ ہمیں واپس کر دی گئی۔

ہم نے جب اپنے ٹُھوٹھے کا یہ حشر ہوتے دیکھا تو اُس کے ٹوٹنے کو بقولِ وارث شاہ تقدیر کیاکِیا ہی گردانااور آئندہ سال کا انتظار کھینچنے لگے جسے بہر حال آنا تھااور وہ آ بھی گیا۔ لیکن ہمارے فکروخیال میں ولولے کی جو تازگی اور عزم کی جو پختگی پائی جاتی تھی اُس پر ایک طرح کی اوس ضرور پڑ گئی۔

نیا سیشن آیا …تو ہم نے چڑیوں کے گھونسلوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اپنی درخواست پھر بحضورِعالی مرتبت گزاری جس پر موصوف کے سفارشی حروف کے ثبت ہونے تک ہم نے اپنی سانس کو یوں روکے رکھا جیسے سپریم کورٹ کے کسی مقدمے کے فیصلے کا اعلان ،مدعیان کے ’’سوتر ‘‘سُکا دیتا ہے بالآخر ہیڈماسٹر صاحب نے سال بھر سے محفوظ کیا ہوا فیصلہ سنا ہی دیا یعنی ہمیں اس قابل ٹھہرا دیا کہ اگر محکمہ چاہے تو درخواست گزار بحرِ علم سے حسبِ استطاعت اپنے حصے کے تعلیمی موتی سمیٹ سکتا ہے اور سچ جانیے کہ اُن کی اِتنی سی کار گزاری سے ہم اُن کی فروانیٔ عظمت کو کُچھ یوں دیکھتے پائے گئے جیسے تاریخ کی بعض کتابوں میں سبکتگین کو دیکھتی ہوئی ہرنی دکھائی جاتی ہے

مُجھ کو بھی تمازت کی جو پہچان ہوئی ہے

احساں ہے تری راہ کے اک ایک شجر کا

درخواست بعد از کارروائی جانے کو تو چلی گئی لیکن سکول اور ضلعی دفتر کے درمیان اٹک تو کیا لٹک کر رہ گئی اور یہ دفتر وہ تھا جسے اعرافِارضی کہیے تو بجا ہے یعنی دفتر اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ انسپکٹر المعروف بہ اے ڈی آئی آفس۔ ہم دفتر مذکور میں پہنچے تو

یاد تھیں جتنی دُعائیں صرفِدرباں ہو گئیں

اور اذنِ باریابی بھی مشکل نظر آیا۔ اس لئے کہ صاحبِدفتر خود ایم اے امتحان کی تیاری میں غرق تھے اور اپنی ماتحت مخلوق کو شرفِ ملاقات بخشنے سے پوری طرح گریزاں، تاہم ڈیڑھ دو گھنٹے کے انتظار کے بعد دربان کی عنایتِ خاص کے طفیل شرفِ باریابی حاصل ہوا تو زمانے بھر کے نشیب وفرازجیسے دفتر کی چاردیواری میں یکجا ہو گئے کہ ہمارے افسرِ مجاز جہاں فراز ہی فراز تھے ہم وہاں پا بہ فرق نشیب بنے کھڑے تھے ، اور سرتاپا گفتۂ غالب کی تصویر

دکھا کے جنبشِلب ہی تمام کر ہم کو

نہ دے جو بوسہ تو منہ سے کہیں جواب تو دے

چنانچہ اس نشیب وفراز کے درمیان جو گفتگو ہوئی شاید اس کے کچھ الفاظ ہی فراز کے کانوں تک پہنچے جس کا مختصر اور تیر بہدف جواب انہوں نے یہ دیا کہ ڈگریاں یونیورسٹی سے ملا کرتی ہیں اے ڈی آئی آفس سے نہیں، جائیے اور حق حلال کی روزی کمانے کی فکر کیجے، یہ کام دفتری نوعیت کا ہے۔ اور اپنے وقت پر ہو جائے گا۔

رسوائیاں اٹھائیں جو ر و عتاب دیکھا

عاشق تو ہم ہوئے پر کیا کیا عذاب دیکھا

ہم دفتر سے برآمد ہوئے تو خدا جانے احساس کی کن کھائیوں میں غرق ہو گئے، تاہم جب ابھرے تو پھر اُسی ماحول میں تھے،جہاں اطراف و جوانب میں نشیب ہی نشیب تھا، بجزہیڈ ماسٹر کے دفتر کے، لیکن اس پل ہمیں تو وہ بھی ایک معمولی سا ٹیلہ ہی دکھائی دیا، بہرحال اپنے احباب سے جب قّصہ اس نامرادی کا چھڑا تو انہوں نے ہمیں راستہ محکمانہ ہائیکورٹ کا سُجھایا، یعنی یہ کہ ہمیں ضلعی افسرِاعلیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے تھا یہ بات ہمیں زیادہ غیر معقول تو نہ لگی لیکن ہم کُچھ ہی عرصہ پہلے لاریب کالج کے ایک نمایاں طالب علم تھے۔اور اپنے اساتذہ کے ایک واجب العزت شاگرد رہ چکے تھے، اس مقام پر پہنچے تو جیسے ٹھٹھک کر ہی رہ گئے، پھر بھی

زخمِ فرقت وقت کے مرہم سے پاتا ہے شفا

کُچھ دن گزرے تو ہم نے اچن چیت ضلعی دفتر کا رخ کیا۔

ہو لئے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھ

یا رب! اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا!

لیکن جب وہاں پہنچے تو اپنی چستی و توانائی پر جیسے خِفّت سی ہونے لگی اس لئے کہ باوجود ستر میل کی مسافت کے دفتر مذکور میں صبحدم پہنچ جانا محکمانہ قواعد سے ہماری سراسر نا آگاہی تھا جس کا انکشاف اگر خداوندانِ محکمہ پر ہو جاتا تو ہمارا عاقبت نامہ یعنی سروس بُک ایڈورس ریمارکس سے ضرور ملوث ہو جاتی، جس سے ہماری سالانہ ترقی توکیا رُکنی تھی کہ اس طرح کے فلیتوں کے ہم بالقواعد اہل نہ تھے، البتہ استمرارِملازمت کے حق میں اتنا لکھا بھی سَمِ قاتل ضرور ہو سکتا تھا،مگر بحمد اﷲ کہ ہم اس خطرے سے قبل از وقت ہی آگاہ ہو گئے اور گیارہ بجے تک کا عرصہ چھُپ چھپا کے دفتر کے نواحی ہوٹلوں میں گزار دیا۔ اس لئے کہ صاحبِضلع سے ملاقات کا مسلّمہ ومروّجہ وقت صبح کے گیارہ بجے ہی تھا۔

گیارہ بجے سے پہلے ہمارے افسرِ اعلیٰ کیا کرتے رہے ہمیں اِس سے غرض تھی نہ واسطہ،لہٰذادیگر مسائل کے ہمراہ جب گرد و پیش کا جغرافیہ اور ارتقائی جائزہ مکمل کر چکے تو خبر یہ ملی کہ صاحبِضلع دفتر میں تشریف لا چکے ہیں۔ جس پر ہم محکمہ کے سب سے بڑے دربان کے سامنے دستِ دعا دراز کرنے میں کامیاب ہو گئے اور چھوٹی سرکار کو عرض یہ گزاری کہ اگر وہ کرم گستری کرے اور ہمیں جائے مقصودہ تک پہنچا دے تو اُسے کُچھ دیر نہیں لگتی لیکن اس کی کرم گستری کا باب ابھی کھلنے بھی نہ پایا تھاکہ صاحب بہادر کسی میٹنگ میں شرکت کے لئے اپنی کرسی ٔاقتدار سے کیا اٹھے دفتر بھر میں جیسے زلزلہ آگیا جس کا شکار ہم بھی ہوئے۔

جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئی

مشکل کہ تُجھ سے راہِسخن وا کرے کوئی

اور خدا کا شکر کہ بخیریت اپنی جائے ملازمت پرواپس پہنچ گئے۔

ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s