ہو ترا کرم اَب کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
چاہتے ہیں ہم اَب کے
ہو ترا کرم اَب کے
لُوٹنے کو جی چاہے
لطفِ کیف و کم اَب کے
حبس وُہ لُہو میں ہے
گھُٹ رہا ہے دم اَب کے
مثلِ ماہ و شب ہم بھی
کیوں نہ ہوں بہم اَب کے
کُچھ تو محو ہونے دے
ابروؤں کے خم اَب کے
پوچھتی ہے کیا ماجدؔ
موسموں کی نم اَب کے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s