پھُول کھِل کھِل کے مجھے یاد دلائیں تیری

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
لے کے پھرتی ہیں رُتیں شوخ ادائیں تیری
پھُول کھِل کھِل کے مجھے یاد دلائیں تیری
تیرے پیکر کا گماں یُوں ہے فضا پر جیسے
پالکی تھام کے پھرتی ہوں ہوائیں تیری
دَھج ترے حُسن کی جادو نہ جگائے کیونکر
رنگ کرنوں کا ہے خوشبُو کی قبائیں تیری
دل کی دھڑکن کو بھی آہنگ دلائیں تازہ
یہ کھنکتی سی لپکتی سی صدائیں تیری
یہ الگ بات کہ تُو مجھ کو نہ پہچان سکے
ہیں تمنّائیں مری ہی تو ادائیں تیری
میرے جذبات کہ رقصاں ہیں بہ چشم و لب و دل
دیکھ یہ مور بھی لیتے ہیں بلائیں تیری
دُور رہ سکتی ہیں ماجدؔ کے قلم سے کیسے
نقشِ چغتائی سی صبحیں یہ مسائیں تیری
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s