وُہ مہرباں تھا تو کیں ہم نے وحشتیں کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
دمِ وصال پھلانگی گئیں حدیں کیا کیا
وُہ مہرباں تھا تو کیں ہم نے وحشتیں کیا کیا
ہر اِک کے نفس تھا کوئی موجۂ صبا جیسے
لبوں کے بیچ در آئی تھیں کونپلیں کیا کیا
رُوئیں رُوئیں کو زباں بحش دی تھی اُس نے مگر
وضاحتوں میں تھیں پھر بھی قباحتیں کیا کیا
لہُو میں آگ، شرارے نظر میں تھے اپنی
مچل اُٹھی تھیں بدن میں تمازتیں کیا کیا
یہ تن کہ جیسے چٹخنے کو جامِ مے ہو کوئی
لب و نگاہ میں رقصاں تھیں خواہشیں کیا کیا
ہُوا مباح ہمیں جو بھی کچھ کہ تھا ممنوع
ملیں بہ جنبشِ اَبُرد دُہ مہُلتیں کیا کیا
دل و نظر میں ابھی تک ہیں خنکیاں ماجدؔ
نجانے قرب میں تھیں اُس کے لذّتیں کیا کیا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s