نہ سہی پہ کُچھ تو ترا جواب ہے سامنے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 27
جو نہیں ہے تُو، تو یہ ماہتاب ہے سامنے
نہ سہی پہ کُچھ تو ترا جواب ہے سامنے
ہے رواں لُہو میں ترے ہی لمس کا ذائقہ
شب و روز اک یہی عکسِ خواب ہے سامنے
وُہی جس کی آس مشامِ جاں کو رہی سدا
سرِ شاخِ شب وُہ کھِلا گلاب ہے سامنے
تری دید ہے کہ نظر میں حرف سُرور کے
ترا قرب ہے کہ کھُلی کتاب ہے سامنے
یہی شے تو وجہِ قیام خیمۂ لُطف ہے
یہ جو دو حدوں میں تنی طناب ہے سامنے
ہے تجھی سی پیاس اِسے بھی لختِ زمین جاںِ
یہی جو نظر میں تری سحاب ہے سامنے
وُہی کھو گئی تھی جو تُجھ سے ماجدِ ؔ بے سکوں
وُہی دیکھ! ساعتِ اضطراب ہے سامنے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s