رگوں میں مچلتی تمازت کبھی تو زباں پر بھی لاؤ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
لبوں کے اُفق پر دمکتا ہُوا کوئی سورج اُگاؤ
رگوں میں مچلتی تمازت کبھی تو زباں پر بھی لاؤ
ہواؤں میں اپنی مہک کب تلک یوں بکھرنے نہ دو گے
حجاب اِس طرح کے ہیں جتنے بھی وہ درمیاں سے اُٹھاؤ
تمہیں کتنی حسرت سے کہتی ہے میری یہ تشنہ سماعت
بھنچے ہیں جو لب تو نگاہوں سے ہی کوئی نغمہ سناؤ
وہی جو گرہ ہے تمہارے مرے عہدِ وابستگی کی
وہ انگشتری بھی کبھی وقت کی انگلیوں میں سجاؤ
یہ تنہا روی ترک کر دو کہ اِس میں فقط ٹھوکریں ہیں
مکّرر جسے جسم چاہے کوئی ضرب ایسی بھی کھاؤ
بُلاتی ہے خود ابر کو دیکھ لو اپنی جانب یہ کھیتی
تمہارا بدن کہہ رہا ہے ’’لُہو میں مرے سر سراؤ‘‘
بُہت سینچ بیٹھے ہو ماجدؔغزل کو نمِ دردِ جاں سے
اگر ہو سکے تو ذرا اِس میں من کے تقاضے بھی لاؤ
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s