جو حرفِ لطف ہے وہی کنجِ دہن میں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
کس مہر کا ہے عکس کہ تیرے بدن میں ہے
جو حرفِ لطف ہے وہی کنجِ دہن میں ہے
دیکھے سے جس کے سِحر زدہ ہو ہر اک نگاہ
سربستگی سی کیا یہ ترے پیرہن میں ہے
رنگینیاں تجھی میں چمن کے جمال کی
اور سادگی وہی کہ جو کوہ و دمن میں ہے
ہر اوجِ آرزُو ہے نثار اِس نشیب پر
رفعت نہ جانے کیا ترے چاہِ زقن میں ہے
خنکی تو خیر جسم کی رشکِ چمن سہی
حدّت بھی اس طرح کہ کہاں دشت دبن میں ہے
حسرت سے دیکھتی ہیں سوالی رُتیں تجھے
کیا تازگی یہ تیری نظر کے ختن میں ہے
اُمڈے ہے حرف حرف میں کس شہ پہ اِن دنوں
ماجدؔ یہ لطفِ خاص جو تیرے سخن میں ہے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s