یہ ہم سے پوچھئے کیا ہیں محبتیں کرنی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 64
حصارِ ہجر سے پیہم بغاوتیں کرنی
یہ ہم سے پوچھئے کیا ہیں محبتیں کرنی
سبھی حجاب ترے سامنے سمٹنے لگے
تجھی نے ہم کو سکھائیں یہ وحشتیں کرنی
ترے ہی حسنِ سلامت سے آ گئی ہیں ہمیں
بہ حرف و صوت یہ پل پل شرارتیں کرنی
جگرِ میں سینت کے سَب تلخیاں، بنامِ وفا
نثار تُجھ پہ لُہو کی تمازتیں کرنی
یہی وہ لطف ہے کہتے ہیں قربِ یار جسے
دل و نگاہ سے طے سب مسافتیں کرنی
یہی کمال، ہُنر ہے یہی مرا ماجدؔ
سپرد حرف، کِسی کی امانتیں کرنی
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s