ہُوئے اجنبی وہی بام و در ترے شہر میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 84
تھے جو آشنائے دل و نظر ترے شہر میں
ہُوئے اجنبی وہی بام و در ترے شہر میں
کبھی سر پہ میرے بھی باز بیٹھا تھا آن کے
کسی روز میں بھی تھا تاجور ترے شہر میں
وہ نظر کہ جس سے تھے دل کو تجھ سے معاملے
ہے اُجاڑ اب وہی راہگزر ترے شہر میں
وہ ستم کبھی سر عام جس کو رواج تھا
وہی اب روا ہے پسِ نظر ترے شہر میں
ہمیں تھے کبھی ترے نیّرِ اُفقِ نگاہ
ہمیں ذرّہ ذرّہ گئے بکھر ترے شہر میں
کیا اختیار سخن تو کب یہ گمان تھا
کہ کرے گا خوار یہی ہنر ترے شہر میں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s