کیا ہوئے لوگ وہ خوابیدہ اداؤں والے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 58
دم بہ دم کھلتی رُتوں اپنی ہواؤں والے
کیا ہوئے لوگ وہ خوابیدہ اداؤں والے
پل میں بے شکل ہُوئے تیز ہوا کے ہاتھوں
نقش تھے ریت پہ جو عہد وفاؤں والے
جیسے بھونچال سے تاراج ہوں زر کی کانیں
بھنچ گئے کرب سے یوں ہاتھ حناؤں والے
شورِ انفاس سے سہمے ہیں پرندوں کی طرح
زیرِ حلقوم سبھی حرف دعاؤں والے
آ گئے سبزۂ بے جاں میں طراوت سے معاً
دیکھتے دیکھتے انداز خداؤں والے
اوڑھنی سب کی ہو جیسے کوئی مانگے کی ردا
باغ میں جتنے شجر ملتے ہیں چھاؤں والے
عکسِ احساس، زباں تک نہیں آتا ماجدؔ
لفظ ناپید ہیں گھمبیر صداؤں والے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s