کم ہوں نہ شورشیں ہی لہو کی تو کیا کریں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 62
خواہش تو ہے کہ دل کو سکوں آشنا کریں
کم ہوں نہ شورشیں ہی لہو کی تو کیا کریں
کچھ لطفِ بے نیازئ صحرا بھی چاہئے
ہر دم نہ زیر بارِ چمن ہی رہا کریں
شامل ہے مثلِ درد جو ماجدؔ بہ ہر نفس
اُس کرب ناروا کا مداوا بھی کیا کریں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s