مرے وسوسوں مرے واہموں کو مٹائیے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 87
پۓ لطف یا پۓ جور جیسے بھی آئیے
مرے وسوسوں مرے واہموں کو مٹائیے
ہمہ دم ہی صور نہ پھُونکئے سرِ انجمن
کبھی کوئی قصّۂ جاں فزا بھی سنائیے
میں ترس رہا ہوں کتابِ سبز بہار کو
مرے ہاتھ اِس کا وَرق وَرق نہ تھمائیے
پۓ انتقام، ستم میں بخل نے کیجیئے
کہ یہ زہرہے تو نہ جرعہ جرعہ پلائیے
کبھی کھولئے کسی کنجِ لطف کا باب بھی
بہ کنارِ گلشنِ آرزُو نہ پھرائیے
ہے علیلِ دید تمہارا ماجدِؔ خستہ جاں
کسی روز صورتِ موجِ باد ہی آئیے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s