ٹھہرا جب احتجاج تو کھُل کر منائیے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 93
پتلے روِش روِش پہ خزاں کے جلائیے
ٹھہرا جب احتجاج تو کھُل کر منائیے
حاصل بہ عجز رتبہ مبارک ہو یہ تمہیں
میں ہوں انا شکار مرے منہ نہ آئیے
پھر دیکھنا حصولِ گلِ تر کے خواب بھی
دامن تو پہلے باڑھ سے اپنا چھڑائیے
دعویٰ ہے تازگی کا درونِ قفس یہی
سر پھوڑ پھوڑ اپنا لُہو میں نہائیے
ماجدؔ یہ تن نہ مثلِ گریباں ہو چاک چاک
دل میں جو زہر ہے وہ زباں پر بھی لائیے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s