عَلَم جو لے کے چلے تھے اٹھائیے اَب بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 98
بھٹک گئے تھے تو کیا لوٹ آئیے اب بھی
عَلَم جو لے کے چلے تھے اٹھائیے اَب بھی
وہ جس کی لَے پہ کبھی دل سبھی کے دَھڑکے تھے
بہ صِدقِ دل وہی نغمہ سنائیے اَب بھی
وہ جس کی لَو پسِ ہر لب سسک رہی ہے ابھی
دِیا وہ ہاتھ میں لے کر جلائیے اَب بھی
نفس نفس کو جو پھر حدّتِ جنوں بخشے
وہ شعبدہ سرِ محفل دکھائیے اَب بھی
اک ایک رَہ کو منّور کیا تھا جس نے کبھی
جبیں جبیں پہ وُہی ضَو سجائیے اَب بھی
وہ آرزو کہ جو تشنہ ہے آج تک ماجدؔ
وُہی بہ شکلِ غزل گنگنائیے اَب بھی
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s