یہ مری تمّنا تھی مَیں کہ آج پتّھر ہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 75
انگ انگ میں تیرے جذب ہو کے رہ جاؤں
یہ مری تمّنا تھی مَیں کہ آج پتّھر ہوں
رہ بہ رہ خزاؤں سے سامنا نظر کا ہے
دل کہ ایک صحرا ہے دیکھ دیکھ ڈرتا ہوں
کیا کہوں عجب سا ہے حادثہ مرا لوگو
سر بہ سر بہاراں ہوں پر خزاں سے ابتر ہوں
مقتلِ تمّنا ہے پیش و پس مرے ماجدؔ
مَیں کہ جیسے مجرم ہوں چین کس طرح پاؤں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s