ہم بھی کریں مداوا، یخ بستہ خامشی کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 62
جھانکے جو بام پر سے سُورج تری ہنسی کا
ہم بھی کریں مداوا، یخ بستہ خامشی کا
کھِلتے ہوئے لبوں پر مُہریں لگا کے بیٹھیں
تھا کیا یہی تقاضا ہم سے کلی کلی کا
اَب آنکھ بھی جو اُٹھے، جی کانپتا ہے اپنا
کیا حشر کر لیا ہے ہمّت رہی سہی کا
پھر سنگ بھی جو ہوتی اپنی زباں تو کیا تھا
دعوےٰ اگر نہ ہوتا ہم کو سخنوری کا
بستر لپیٹ کر ہم اُٹھ جائیں رہ سے اُس کی
مقصد نہیں تھا شاید ایسا تو مدّعی کا
ماجدؔ لبوں کے غنچے چٹکے دھُواں اُگلتے
تھا یہ بھی ایک پہلو افسردہ خاطری کا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s