ہم اتنا بھی سوچنے نہ پائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 69
تم بھُول گئے کہ یاد آئے
ہم اتنا بھی سوچنے نہ پائے
مرتے ہیں ہمیں ترے نہ ہوتے
روتے ہیں ہمیں ترے بِن آئے
گزرے ہیں تری گلی سے لیکن
دل تھامے ہوئے نظر چُرائے
ہم بھی ترے مُدّعی ہوئے تھے
ہم بھی غمِ ہجر ساتھ لائے
ظُلمت سے نظر چُرانے والو
شب، خونِ جگر نہ چاٹ جائے
سہلا نہ سکے اگر تو ماجدؔ
موسم، کوئی تِیر ہی چلائے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s