ہر ایک شخص سے جیسے چھپا پھروں ہوں مَیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
کچھ اِن دنوں عجب انداز سے جیوں ہوں مَیں
ہر ایک شخص سے جیسے چھپا پھروں ہوں مَیں
ہوئی ہے ایک ادا ہی ٹھٹک کے رہ جانا
سکون سے جو قدم دو قدم چلوں ہوں مَیں
گہے اڑوں ہوں مَیں برگِ خزاں زدہ کی مثال
گہے بصُورتِ غنچہ مہک اُٹھوں ہوں مَیں
نظر نہیں ہے جب اپنے ہی عجز پر ماجدؔ
کسی کے پیار پہ الزام کیوں دھروں ہوں مَیں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s