ہاتھ مرے ہاتھوں میں دے دے جینے کا سامان کروں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
کھول کوئی در لطف کا اپنے، اِن آنکھوں میں رنگ بھروں
ہاتھ مرے ہاتھوں میں دے دے جینے کا سامان کروں
لازم ہے اِک دورِ طرب کے بعد مجھے تو بھُول بھی جا
مَیں اک بار تجھے پھر چاہوں عہد نیا آغاز کروں
چاروں اور رہی اِک ظلمت جو سوچا سو دیکھا ہے
چاند کبھی تو اُبھرے گا یہ آس لگا کر بھی دیکھوں
اے کہ تلاشِ بہار میں تُو بھی غرق ہے، برگِ آوارہ
کاش مجھے بھی پر لگ جائیں مَیں بھی تیرے ساتھ اُڑوں
شہر میں ہر اک شخص تھا جیسے ایک یہی تلقین لیے
مَیں شبنم کو پتّھر جانوں مَیں پھُولوں کو خار کہوں
گلشن میں یہ کنجِ سخن بھی اُجڑا بن کہلاتا ہے
مَیں جِس پھلواری سے ماجدؔ پہروں بیٹھا پھُول چُنوں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s