کوئی تو راہ کا پتّھر بھی اب دکھاؤ مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 49
دلا دیا ہے جو سیلاب سا بہاؤ مجھے
کوئی تو راہ کا پتّھر بھی اب دکھاؤ مجھے
بہت سے نقش ہیں تشنہ ابھی مصّورِ حسن
یہ جگ ہنسے گا ابھی سامنے نہ لاؤ مجھے
نکل گیا ہوں سلامت ہی حادثوں سے تو مَیں
چِتا میں رکھ کے نہ یادوں کی اَب جلاؤ مجھے
اُدھر ہیں لوگ نگاہوں میں جن کی راکھ ہوں میں
اِدھر ہو تم کہ بتاتے ہو اِک الاؤ مجھے
تناوری پہ مری بس کہاں وجود مرا
اُتر بھی جاؤ جو پاتال تک نہ پاؤ مجھے
پیمبرِ گل تر ہوں غزل ہوں ماجدؔ کی
نظر پڑوں تو کبھی آ کے گنگناؤ مجھے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s