پھر کیوں نہ ہر قدم پہ نئی رہگزر ملے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 65
تو مُدّعا ہو اور ترا غم ہمسفر ملے
پھر کیوں نہ ہر قدم پہ نئی راہگزر ملے
اَب ہم سے مستیاں وہ، طلب کر نہ اے صبا!
مدّت ہوئی کسی کی نظر سے نظر ملے
حُسنِ حبیب اَب لب و رُخسار تک نہیں
اَب تو جنوں بضد ہے کہ حُسنِ نظر ملے
اِک عمر سے گھرے ہیں اِسی بے بسی میں ہم
تجھ تک اُڑان کو نہ مگر بال و پر ملے
مُطرب! بہ رقص گا، مرے ماجدؔ کی یہ غزل
تجھ سے مرا وہ سروِ چراغاں اگر ملے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s