پھر بھی اُمّید کی آغوش ہے خالی یارو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
ہم نے تو درد سے بھی آنکھ لڑا لی یارو
پھر بھی اُمّید کی آغوش ہے خالی یارو
شکر ہے تم نے یہ راہیں نہیں دیکھیں اَب تک
ہم تو در در پہ گئے بن کے سوالی یارو
آنکھ ہی دید سے محروم ہے ورنہ ہر سو
ہے وہی عارض و رخسار کی لالی یارو
جانے کس دور کا رہ رہ کے سُناتی ہے پیام
زرد پتّوں سے یہ بجتی ہوئی تالی یارو
عظمتِ رفتۂ فن لوٹ کے آتی دیکھو
طرز اب کے ہے وہ ماجدؔ نے نکالی یارو
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s