نذرِ صرصر بھی ہمیں برگ ہُوا کرتے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 20
موسموں کو نئے عنوان دیا کرتے ہیں
نذرِ صرصر بھی ہمیں برگ ہُوا کرتے ہیں
اپنے احساس نے اِک رُوپ بدل رکھا ہے
بُت کی صورت جِسے ہم پُوج لیا کرتے ہیں
اُن سے شکوہ؟ مری توبہ! وہ دلوں کے مالک
جو بھی دیتے ہیں بصد ناز دیا کرتے ہیں
ہم کہ شیرینیِ لب جن سے ہے ماجدؔ منسُوب
کون جانے کہِ ہمیں زہر پِیا کرتے ہیں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s