میرے کہے پہ آپ بھروسہ نہ کیجئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
چہرے کو دیکھئے، مری آنکھوں میں جھانکئے
میرے کہے پہ آپ بھروسہ نہ کیجئے
کھِلتے ہوئے گلوں کی مہک تھی، مری نظر
پھر کیا ہوا مجھے، یہ مُجھی سے نہ پوچھئے
اچّھا نہ ہو گا مَیں بھی اگر لب کشا ہُوا
میری زباں سے زنگ نہ چُپ کا اُتارئیے
ماجدؔ درِ بہار پہ پہنچے تو ہو مگر
اپنی جبیں سے آپ پسینہ بھی پونچھئے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s