لے کے بیٹھے ہیں تیرا غم تنہا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 72
بزم آرا ہیں لوگ ہم تنہا
لے کے بیٹھے ہیں تیرا غم تنہا
کارواں کو ترس گئے ہوں گے
چلنے والے قدم قدم تنہا
کیوں مرے ہو کے دور رہتے ہو
چاند ہے آسماں پہ کم تنہا
ساتھ دیتا ہے کب کوئی ماجدؔ
دل ہی سہتا ہے ہر ستم تنہا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s