ذکر اُس کا چھیڑ بیٹھے بھی تو کس اسلوب ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 77
آج تک جس شخص کی نظروں میں تھے معتوب ہم
ذکر اُس کا چھیڑ بیٹھے بھی تو کس اسلوب ہم
روز جینے کا نیا اِک تجربہ درپیش ہے
روز اِک سولی پہ ہوتے ہیں یہاں مصلوب ہم
کھُل کے آنا ہی پڑا آخر سرِ میداں ہمیں
یُوں تو رہنے کو رہے ہیں مُدّتوں محجوب ہم
وہ کھُلی آنکھوں سے ہم کو دیکھتا ہی رہ گیا
ضد پہ اُترے بھی تو اِک دن اُس سے نپٹے خوب ہم
شوخیِ طرزِ بیاں الزام کیا کیا لائے گی
جانے کس کس شوخ سے ٹھہریں گے کل منسوب ہم
یہ بھی گر شرطِ سخن ٹھہری تو ماجدؔ ایک دن
شاعری کرنے کو ڈھونڈیں گے کوئی محبوب ہم
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s