دیکھ تسکین کی صورت ہے کہاں آنکھوں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 44
رات کٹتی ہے سلگتے، مری جاں آنکھوں میں
دیکھ تسکین کی صورت ہے کہاں آنکھوں میں
دلِ ناداں کی پیمبر ہیں اِنہیں دیکھ ذرا
ہے کوئی غم تری جانب نگراں آنکھوں میں
پہلوئے دل میں مہکتا ہے وہی اِک گل تر
تیرتا ہے وہی اِک ماہ رواں آنکھوں میں
نہ کسی غم کا چراغاں نہ کسی یاد کے دیپ
کب سے ماجدؔ ہے اندھیروں کا سماں آنکھوں میں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s