جس کا کھِلنا یا مرجھانا بس سے مرے باہر بھی نہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
ہر لمحہ اِک بند کلی اور بول مرے تھے بادِ صبا
جس کا کھِلنا یا مرجھانا بس سے مرے باہر بھی نہ تھا
پھول کھِلے تو مَیں خود چھپ کر بیٹھ رہا ویرانوں میں
بِیت گیا جب موسمِ گل تو اُجڑے بن میں کُود پڑا
مَیں مجرم ہوں مَیں نے زہر سمویا اپنی سانسوں میں
اے جیون اے عادلِ دوراں،للہ مجھ پر رحم نہ کھا
اے جینے کے رستے مجھ پر اور بھی کچھ ہو بند ابھی
مَیں کہ نہیں ہوں اندھا بھی تُو میری آنکھیں کھول ذرا
ٹُنڈ شجر اور شاخیں، اُجڑی آنکھیں جیسے بیوہ کی
کس موسم کا ماتھا ماجدؔ مَیں نے بڑھ کر چوم لیا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s