اپنے آپ کو غیر نگہ سے جانے کب جا دیکھوں مَیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 74
اپنے اندر اُلجھ گیا ہوں باہر کیسے نکلوں مَیں
اپنے آپ کو غیر نگہ سے جانے کب جا دیکھوں مَیں
کِس پر تنگ ہوئی یوں دُنیا کس نے حشر یہ دیکھا ہے
جب بھی سانس نیا لیتا ہوں زہر نیا اِک چکّھوں مَیں
یہ بھی عجب کیفیتِ غم ہے اپنے آپ میں گم ہو کر
سرتا پا دل بن جاتا ہوں پہروں بیٹھا دھڑکوں میں
چہرے پر اک دھول جمی ہے برس برس کا رنگ لیے
دل بے چارہ آس بندھائے ساتھ گلوں کے مہکوں مَیں
کون غنی ہے جس کے در کے دونوں پَٹ ہوں کھُلے ہوئے
کس دہلیز کو منزل مانوں کس آنگن میں ٹھہروں مَیں
کوئی تو شاید اپنی خبر کو بھی اے ماجدؔ آ پہنچے
ایک نظر باہر بھی دیکھوں در تو اپنا کھولوں مَیں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s