ابکے لگے ہے ٹھہری وہ ٹھنڈے جل سی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 53
خون میں برپا رہتی تھی جو ہلچل سی
ابکے لگے ہے ٹھہری وہ ٹھنڈے جل سی
ایسی کیوں ہے آنکھ نہیں بتلا سکتی
نندیا ہے کہ گرانی سے ہے بوجھل سی
لا فانی ہے یہ تو کتابیں کہتی ہیں
روح نجانے رہتی ہے کیوں بے کل سی
رات کا اکھوا ہے کہ نشانِ بدامنی
دور افق پر ایک لکیر ہے کاجل سی
منظر منظر تلخ رُوئی ہے وہ ماجد
اتری لگے جو آنکھوں آنکھوں حنظل سی
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s