کھیل جاری رہے

بے جھجک، بے خطر

بے دھڑک وار کر

میری گردن اُڑا

اور خوں سے مرے کامیابی کے اپنی نئے جام بھر

چھین لے حسن و خوبی، انا، دلکشی

میرے لفظوں میں لپٹا ہوا مال وزر

میری پوروں سے بہتی ہوئی روشنی

میرے ماتھے پہ لکھے ہوئے سب ہنر

تجھ سے شکوہ نہیں

اے عدو میرے میں تیری ہمدرد ہوں

تیری بے چہرگی مجھ کو بھاتی نہیں

تجھ سے کیسے کہوں!!

تجھ سے کیسے کہوں! قتل کرنا مجھے تیرے بس میں نہیں

(اور ہو بھی اگر، تیری کم مائیگی کا مداوا نہیں )

ہاں مگر تیری دل جوئی کے واسطے

میری گردن پہ یوں تیرا خنجر رہے

(تیری دانست میں )

کھیل جاری رہے

نینا عادل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s