ڈر

کیسے نکلے گا جیتے جی دل سے ڈر کا کانٹا صاحب

کب خوف کی وحشی گلیوں میں بھٹکی ہوئی ساعت لوٹے گی؟

کب اندیشوں کے سانپ میرے پیڑوں سے لپٹنا چھوڑیں گے؟

سہمے ہوئے شبدوں کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی ہوں

کیسے بتلاؤں کیوں مجھ کو دن کے زہریلے ہاتھوں سے!

شاموں کے سرخ آسیبوں سے، راتوں کی بے دل آنکھوں سے!

اور آس کے آٹھوں پہروں سے!

ڈر لگتا ہے

خوابوں کے رن میں پڑے ہوئے خواہش کے ادھورے جسموں سے

اور مان کی روح میں گڑے ہوئے تر پنجوں سے

جانی پہچانی آنکھوں میں پنہاں انجانی وحشت سے

رشتوں کے مذبح خانوں سے

بندھن کے زندہ لاشوں سے

ڈر لگتا ہے

اس جسم کی دیواروں میں ہے ڈر کا خستہ گارا صاحب

شیشے میں رقصاں سایوں سے، سانسوں اور آوازوں سے

پل پل میں بدلتے رنگوں سے! ڈر لگتا ہے

۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ نیلی پڑ جاتی ہوں صاحب

چہرے کی پیلی رنگت کو کب تک میں چھپاؤں غازے میں؟

نینا عادل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s