چار دیواری میں چنی ہوئی عورت

بند کے اُس طرف خود اُگی جھاڑیوں میں لگی رس بھری بیریاں خوب تیار ہیں

پر مرے واسطے ان کو دامن میں بھر لینا ممکن نہیں

اے خدا! جگنوؤں، قمقموں اور ستاروں کی پاکیزہ تابندگی

وہ جگہ، سو رہی ہے جہاں پر چناروں کے اونچے درختوں سے نتھر ی ہوئی جانفزا چاندنی

۔۔۔ خوشبوئیں خیمہ زن ہیں جہاں رات دن

میری اُن سرحدوں تک رسائی نہیں

اور پچھم کی چنچل سریلی ہوا میرے آنگن سے ہو کر گزرتی نہیں

میں کہ بارش کے قطروں سے نتھرے ہوئے سبز پتّوں کے بوسوں سے محروم ہوں

ان کواڑوں کی پرلی طرف دیر سے بند پھاٹک پہ ٹھہرے ہوئے اجنبی

آس اور بے کلی

حرف اور ان کہی

کچھ نہیں

میں نے کچھ بھی تو دیکھا نہیں

میرے کمرے کی سیلن، گھٹن اور خستہ دِواروں کے پیارے خدا

اور کچھ نا سہی

تو مجھے اک گنہ کی اجازت ملے

نینا عادل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s